الحشر

حشر

24 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 3

    وَلَوْلَآ أَن كَتَبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمُ ٱلْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ عَذَابُ ٱلنَّارِ

    اور اگر اللہ تعالیٰ نے ان پر جلا وطنی کو مقدر نہ کر دیا ہوتا تو یقیناً انہیں دنیا ہی میں عذاب دیتا[1] ، اور آخرت میں (تو) ان کے لیے آگ کا عذاب ہے ہی.

    حواشی

    [1] یعنی اللہ کی تقدیر میں پہلے سے ہی اس طرح ان کی جلا وطنی لکھی ہوئی نہ ہوتی تو ان کو دنیا میں ہی سخت عذاب سے دو چار کر دیا جاتا، جیسا کہ بعد میں ان کے بھائی یہود کے ایک دوسرے قبیلے (بنو قریظہ) کو ایسے ہی عذاب میں مبتلا کیا گیا کہ ان کے جو ان مردوں کو قتل کر دیا گیا، دوسروں کو قیدی بنا لیا گیا اور ان کا مال مسلمانوں کے لیے غنیمت بنا دیا گیا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 3 کی تفسیر

    [3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان یہودیوں کو وہ پوری سزا نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں تخفیف کر دی ہے۔ فرمایا: ﴿ وَلَوْلَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَؔ﴾ اور اگر اللہ نے ان پر جلاوطنی نہ لکھی ہوتی جس کا انھیں سامنا کرنا پڑا جس کا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی قضا و قدر کے ذریعے سے فیصلہ کیا جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا تو دنیا کے اندر ان کی سزا اور عذاب کا معاملہ اور ہوتا۔ اگرچہ وہ دنیا کے اندر سخت عذاب سے بچ گئے، تاہم آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہےجس کی سختی کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں، لہٰذا کبھی ان کے خواب و خیال میں یہ بات نہ آئے کہ ان کی سزا پوری ہو گئی، انھوں نے بھگت لی اور اس سزا میں سے کچھ باقی نہیں بچا۔ پس وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں تیار کر رکھا ہے، زیادہ بڑا اور زیادہ مصیبت کا حامل ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتممتحنہالممتحنة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید