الحشر

حشر

24 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 7

    مَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ كَىْ لَا يَكُونَ دُولَةًۢ بَيْنَ ٱلْأَغْنِيَآءِ مِنكُمْ ۚ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا۟ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

    بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وه اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ ره جائے اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 7 کی تفسیر

    [7] فقہاء کی اصطلاح میں فَے سے مراد وہ مال ہے جو حق کے ساتھ کفار سے کسی جنگ کے بغیر حاصل کیا جائے، مثلاً: ’’وہی مال جسے کفار مسلمانوں کے خوف کی بنا پر چھوڑکر فرار ہو گئے۔ اس کو فَے اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ کفار کی طرف سے جو اس مال کے مستحق نہ تھے، مسلمانوں کی طرف لوٹا ہے جو اس پر بہت زیادہ حق رکھتے تھے۔ مالِ فَے کا حکم : فَے کا حکم یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا : ﴿ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ٘ مِنْ اَهْلِ الْ٘قُ٘رٰى﴾ ’’جو مال اللہ نے بستی والوں سے اپنے رسول کو دلوایا ہے۔‘‘ عمومی طور پر، خواہ رسول اللہ e کا زمانہ ہو یا آپ کے بعد آپ کی امت میں سے اس شخص کا زمانہ ہو جو امارت کے منصب پر فائز ہو ﴿ فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِـذِی الْ٘قُ٘رْبٰى وَالْ٘یَتٰمٰى وَالْمَسٰكِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ﴾ ’’تو وہ اللہ کے لیے، اللہ کے رسول کے لیے، اور (رسول کے) رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس آیت کریمہ کی نظیر ہے جو سورۂ انفال میں مذکور ہے، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: ﴿وَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْ٘قُ٘رْبٰى وَالْ٘یَ٘تٰمٰى وَالْمَسٰكِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ﴾ (الانفال:8؍41) ’’اور جان رکھو! جو چیز تم غنیمت کے طور پر کفار سے حاصل کرو، اس میں سے پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ اور رسول کے لیے اور قرابت داروں، یتیموں، مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ فَے کا مال پانچ اصناف میں تقسیم ہوتا ہے: (۱) پانچ حصوں میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جو مسلمانوں کے مصالح عامہ میں صرف ہوتا ہے۔ (۲) دوسرا حصہ، ذوی القربٰی (رسول اللہe کے رشتہ داروں) کے لیے ہے اور ذوی القربٰی سے مراد بنوہاشم اور بنو مطلب ہیں، جہاں کہیں بھی ہوں، ان کے مردوں اور عورتوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔ بنومطلب خمس وغیرہ کے پانچویں حصے میں بنوہاشم کے ساتھ شریک ہوں گے، بقیہ بنوعبد مناف شریک نہیں ہوں گے کیونکہ جب قریش نے بنوہاشم سے مقاطعت اور عداوت کا معاہدہ کیا تو بنو مطلب بنو ہاشم کے ساتھ شریک تھے اور دوسروں کے برعکس انھوں نے رسول اللہ e کی مدد کی۔ اس لیے نبی اکرم e نے بنو مطلب کے بارے میں فرمایا: ’’وہ جاہلیت اور اسلام میں کبھی مجھ سے الگ نہیں ہوئے۔‘‘ (مسند أحمد: 81/4 و اصله في صحيح البخاري، فرض الخمس، باب و من الدليل على ان الخمس للإمام، حديث: 3140) (۳) تيسرا حصہ محتاج یتیموں کے لیے ہے۔ یتیم وہ ہے جس کے باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہو اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔ (۴) چوتھا حصہ مساکین کے لیے ہے۔ (۵) اور پانچواں (آخری) حصہ مسافروں کے لیے ہے۔ اس سے مراد وہ غریب الوطن لوگ ہیں جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گئے ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ حصے اس لیے مقرر فرمائے اور فَے کو صرف انھی معین لوگوں میں محصور کر دیا ﴿ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ ﴾ ’’تاکہ (مال) تم میں سے دولت مند لوگوں کے ہاتھوں ہی میں گردش نہ کرتا رہے ۔‘‘ اور ان کے سوا عاجز اور بے بس لوگوں کو کچھ حاصل نہ ہو۔ اس میں اس قدر فساد ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی شریعت کی اتباع میں اتنی زیادہ مصلحتیں ہیں جو شمار سے باہر ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک قاعدہ کلیہ اور ایک عام اصول مقرر فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ﴾ ’’رسول تمھیں جو دے، وہ لے لو اور جس سے وہ تمھیں روک دے، اس سے رک جاؤ۔‘‘ یہ آیت کریمہ دین کے اصول و فروع اور اس کے ظاہر و باطن سب کو شامل ہے، نیز یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ e جو کچھ لے کر آئے ہیں، اس سے تمسک کرنا اور اس کی اتباع کرنا بندوں پر فرض ہے اور اس کی مخالفت کرنا جائز نہیں۔ نیز اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی چیز کے حکم پر رسول اللہ e کی نص، اللہ تعالیٰ کی نص کی مانند ہے اور اس کو ترک کرنے میں کسی کے لیے کوئی رخصت اور عذر نہیں اور کسی کے قول کو آپ کے قول پر مقدم رکھنا جائز نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے تقویٰ کا حکم دیا جس سے دنیا و آخرت میں قلب و روح معمور ہوتی ہے، تقویٰ ہی میں دائمی سعادت اور فوز عظیم ہے۔ تقویٰ کو ضائع کرنے میں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی تقویٰ کو ترک کر کے، خواہشات نفس کی پیروی کو ترجیح دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دینے والا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتممتحنہالممتحنة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید