الحشر

حشر

24 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 9

    وَٱلَّذِينَ تَبَوَّءُو ٱلدَّارَ وَٱلْإِيمَـٰنَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِى صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّآ أُوتُوا۟ وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِۦ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

    اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے[1] اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وه اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے[2] بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کو کتنی ہی [3]سخت حاجت ہو (بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب (اور بامراد) ہے.[4]

    حواشی

    [1] ان سے انصار مدینہ مراد ہیں، جو مہاجرین کے مدینہ آنے سے قبل مدینے میں آباد تھے اور مہاجرین کے ہجرت کرکے آنے سے قبل، ایمان بھی ان کے دلوں میں قرار پکڑ چکا تھا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ مہاجرین کے ایمان لانے سے پہلے ، یہ انصار ایمان لاچکے تھے، کیونکہ ان کی اکثریت مہاجرین کے ایمان لانے کے بعد ایمان لائی ہے۔ یعنی مِنْ قَبْلِهِمْ کا مطلب مِنْ قَبْلِ هِجْرَتِهِمْ ہے۔ اور دَارٌ سے دَارُ الْهِجْرَةِ یعنی مدینہ مراد ہے۔ [2] یعنی مہاجرین کو اللہ کا رسول (صلى الله عليه وسلم) جو کچھ دے، اس پر حسد اور انقباض محسوس نہیں کرتے ، جیسے مال فیء کا اولین مستحق بھی ان کو قرار دیا گیا۔ لیکن انصار نے برا نہیں منایا۔ [3] یعنی اپنے مقابلے میں مہاجرین کی ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں۔ خود بھوکا رہتے ہیں لیکن مہاجرین کو کھلاتے ہیں۔ جیسے حدیث میں ایک واقعہ آتا ہے کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے پاس ایک مہمان آیا، لیکن آپ (صلى الله عليه وسلم) کے گھر میں کچھ نہ تھا، چنانچہ ایک انصاری اسے اپنے گھر لے گیا، گھر جاکر بیوی کو بتلایا تو بیوی نے کہا کہ گھر میں تو صرف بچوں کی خوراک ہے۔ انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ بچوں کو تو آج بھوکا سلا دیں اور ہم خود بھی ایسے ہی کچھ کھائے بغیر سو جائیں گے۔ البتہ مہمان کو کھلاتے وقت چراغ بجھا دینا تاکہ اسے ہماری بابت علم نہ ہو کہ ہم اس کے ساتھ کھانا نہیں کھا رہے ہیں۔ صبح جب وہ صحابی رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم دونوں میاں بیوی کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی ہے۔ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ الآیہ (صحيح بخاري ، تفسير سورة الحشر) ان کے ایثار کی یہ بھی ایک نہایت عجیب مثال ہے کہ ایک انصاری کے پاس دو بیویاں تھیں تو اس نے ایک بیوی کو اس لیے طلاق دینے کی پیشکش کی کہ عدت گزرنے کے بعد اس سے اس کا دوسرا مہاجر بھائی نکاح کرلے۔ (صحيح البخاري ، كتاب النكاح)۔ [4] حدیث میں ہے ”شُح سے بچو، اس حرص نفس نے ہی پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، اسی نے انہیں خون ریزی پر آمادہ کیا اور انہوں نے محارم کو حلال کر لیا“۔ (صحيح مسلم ، كتاب البر ، تحريم الظلم)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 8 - 9 کی تفسیر

    [8 - 9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نےفَے کے مال کو جن لوگوں کے لیے مقرر فرمایا، اس کے موجب اور اس میں حکمت کا ذکر فرمایا، نیز بیان فرمایا کہ یہی لوگ اعانت کے مستحق ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے فَے میں حصہ مقرر کیا جائےاور یہ ان مہاجرین کے مابین ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ میں رغبت اور رسول اللہ e کی محبت کی خاطر، اپنے محبوب و مالوف گھر بار، وطن، دوستوں اور احباب کو چھوڑ دیا۔ یہی لوگ سچے ہیں، جنھوں نے اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق عمل کیا، اعمال صالحہ اور مشقت آمیز عبادت کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی بخلاف ان لوگوں کے جنھوں نے ایمان کا دعویٰ کیا مگر ہجرت اور جہاد وغیرہ عبادات کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق نہ کی، نیز انصار یعنی اوس اور خزرج کے مابین ہیں جو اپنی خوشی، محبت اور اختیار سے ایمان لائے۔ جب عرب کے تمام شہر دارالحرب، شرک اور شر کا گڑھ تھے تب انھوں نے رسول اللہ e کو پناہ دی، سرخ و سیاہ سے آپ کی حفاظت کی، دار ہجرت و ایمان میں اقامت کی یہاں تک کہ دار ہجرت ایک ایسا مرجع بن گیا جس کی طرف مومنین رخ کرتے تھے، جہاں مہاجرین پناہ لیتے اور اس کی چراگاہوں میں مسلمان سکونت اختیار کرتے۔ پس دین کی مدد کرنے والے انصار کے پاس پناہ لیتے رہے، یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا، اس نے طاقت پکڑ لی اور اس میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا، حتیٰ کہ مسلمانوں نے علم و ایمان اور قرآن کے ذریعے سے دلوں کو اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے شہروں کو فتح کر لیا جن کے جملہ اوصاف جمیلہ یہ ہیں: ﴿یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ﴾ ’’وہ اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں، اس کے احباب سے محبت کرتے ہیں اور ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ ﴿وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّؔمَّاۤ اُوْتُوْا﴾’’اور و ہ اپنے دلوں میں اس (مال) کی کوئی حاجت نہیں پاتے جو ا ن (مہاجرین) کو دیا جائے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا ہے اور ان کو جن فضائل و مناقب سے مختص کیا جن کے وہ اہل ہیں، وہ ان پر حسد نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ ان کے سینے کی سلامتی، ان میں بغض، کینہ اور حسد کے عدم وجود پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مہاجرین، انصار سے افضل ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذکر کو مقدم رکھا ہے۔نیز آگاہ فرمایا کہ مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا گیا انصار اس کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی حسد محسوس نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کو وہ فضائل عطا کیے جو انصار اور دیگر لوگوں کو عطا نہیں کیے کیونکہ انھوں نے نصرت دین اور ہجرت کو جمع کیا۔ ﴿وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ ’’اور اپنی ذات پر (ان کو) ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود انھیں سخت ضرورت ہو۔‘‘ یعنی انصار کے اوصاف میں سے ایک وصف ایثار ہے، جس کی بنا پر وہ دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان سے ممتاز ہیں، اور یہ کامل ترین جود و سخا ہے اور نفس کے محبوب اموال وغیرہ میں ایثار کرنا اور ان اموال کے خود حاجت مند بلکہ ضرورت مند اور بھوکے ہونے کے باوجود دوسرے پر خرچ کرنا، یہ وصف اخلاق زکیہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، پھر شہوات نفس اور اس کی لذات پر اس کی محبت کو مقدم رکھنے ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ جملہ واقعات میں اس انصاری کا قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے جس کے سبب سے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے جب اس نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے کھانے میں اپنے مہمان کو ترجیح دی اور تمام گھر والوں اور بچوں نے رات بھوکے بسر کی۔ (اِیثَارٌ) ’’ترجیح دینا‘‘ (اَثْرَۃٌ ) ’’خود غرضی‘‘ کی ضد ہے۔ ایثار قابل تعریف وصف ہے اور خود غرضی مذموم ہے کیونکہ یہ بخل اور حرص کے خصائل کے زمرے میں آتی ہے ، اور جسے ایثار عطا کیا گیا اسے نفس کے بخل و حرص سے بچا لیا گیا۔ ﴿وَمَنْ یُّوْقَ شُ٘حَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾ ’’اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح یاب ہیں۔‘‘ اور نفس کے حرص سے بچنے میں ان تمام امور میں حرص سے بچنا شامل ہے جن کا حکم دیا گیا ہے، جب بندہ نفس کی حرص سے بچ گیا، تو اس کے نفس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام آسان لگتے ہیں وہ خوشی سے سر تسلیم خم کرتے ہوئے انشراح صدر کے ساتھ ان کی تعمیل کرتا ہے، اور نفس کے لیے ان تمام امور کو ترک کرنا سہل ہو جاتا ہے، جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، خواہ یہ نفس کے محبوب امور ہی کیوں نہ ہوں اور نفس ان کی طرف بلاتا اور ان کی طرف رغبت کیوں نہ دلاتا ہو۔ اس شخص کے نفس کے لیے، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر، اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنا آسان ہو جاتا ہے، اور اسی سے فوز و فلاح حاصل ہوتی ہے، برعکس اس شخص کے جو نفس کے بخل و حرص سے بچا ہوا نہیں بلکہ بھلائی کے بارے میں حرص کی بیماری میں مبتلا ہے، اور یہ حرص شر کی جڑ اور اس کی بنیاد ہے۔ پس اہل ایمان کی یہ دو فضیلت والی، پاک اصناف ہیں اور وہ صحابہ کرام اور ائمہ اعلام ہیں جنھوں نے سابقیت کے اوصاف، فضائل اور مناقب کو جمع کر لیا ان کے بعد کسی نے ان سے سبقت نہیں کی۔ صحابہ کرام y نے بھلائی میں پہلے لوگوں کو جا لیا اور اس طرح وہ مومنوں کے سربراہ، مسلمانوں کے سردار اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ ان کے بعد آنے والوں کے لیے یہی فضیلت کافی ہے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چلیں اور ان کے طریق کو راہ نما بنائیں۔ اس لیے بعد میں آنے والوں میں سے جو کوئی ان کو راہ نما بناتا ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 9 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتممتحنہالممتحنة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید