الأنعام

انعام

165 آیاتمکیپارہ 7

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 142

    وَمِنَ ٱلْأَنْعَـٰمِ حَمُولَةً وَفَرْشًا ۚ كُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَـٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

    اور مواشی میں اونچے قد کے اور چھوٹے قد کے[1] (پیدا کیے)، جو کچھ اللہ نے تم کو دیا ہے کھاؤ[2] اور شیطان کے قدم بقدم مت چلو[3]، بلاشک وه تمہارا صریح دشمن ہے۔

    حواشی

    [1] حُمُولَةً (بوجھ اٹھانے والے) سے مراد، اونٹ، بیل، گدھا، خچر وغیرہ ہیں، جو باربرداری کے کام میں آتے ہیں اورفَرْشًا سے مراد زمین سے لگے ہوئے جانور۔ جیسے بکری وغیرہ جس کا تم دودھ پیتے یا گوشت کھاتے ہو۔ [2] یعنی پھلوں، کھیتوں اور چوپایوں سے۔ ان سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور ان کو تمہارے لئے خوراک بنایا ہے۔ [3] جس طرح مشرکین اس کے پیچھے لگ گئے اور حلال جانوروں کو بھی اپنے اوپر حرام کرلیا گویا اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام یا حرام کو حلال کرلینا، یہ شیطان کی پیروی ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 142 کی تفسیر

    [142] ﴿وَمِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّفَرْشًا ﴾ ’’اور پیدا کیے مویشی میں سے بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپائے پیدا کیے جن میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو اور ان سے باربرداری کا کام لیتے ہو۔ اور ان میں سے بعض اپنی کم عمری کی وجہ سے سواری اور باربرداری کے قابل نہیں ہوتے ، مثلاً: ان چوپائیوں کے بچے جو ابھی بہت چھوٹے ہوتے ہیں ۔ پس یہ مویشی سواری اور باربرداری کے پہلو سے ان دو اقسام میں منقسم ہوتے ہیں ۔ رہا ان کو کھانے کا پہلو اور ان سے دیگر مختلف انواع کے فوائد حاصل کرنا۔ تو یہ تمام مویشی کھائے بھی جاتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد بھی حاصل کیے جاتے ہیں ۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّ٘یْطٰ٘نِ ﴾ ’’کھاؤ اللہ کے رزق میں سے اور مت چلو شیطان کے قدموں پر‘‘ یعنی شیطان کے طریقوں اور اس کے اعمال کی پیروی نہ کرو۔ ان میں سے منجملہ یہ ہیں کہ تم ان چیزوں کو حرام ٹھہرا لیتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں رزق کے طور پر عطا کی ہیں ﴿اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴾ ’’وہ تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘ پس وہ تمھیں صرف اسی بات کا حکم دے گا جس میں تمھارا نقصان اور تمھاری ابدی بدبختی اور بدنصیبی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 142 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاعرافالأعراف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید