الأنعام

انعام

165 آیاتمکیپارہ 7

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 144

    وَمِنَ ٱلْإِبِلِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْبَقَرِ ٱثْنَيْنِ ۗ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۖ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ وَصَّىٰكُمُ ٱللَّهُ بِهَـٰذَا ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

    اور اونٹ میں دو قسم اور گائے میں دو قسم[1] آپ کہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں ماده کو؟ یا اس کو جس کو دونوں ماده پیٹ میں لئے ہوئے ہوں؟ کیا تم حاضر تھے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تم کو اس کا حکم دیا؟[2] تو اس سے زیاده کون ﻇالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر بلا دلیل جھوٹی تہمت لگائے[3]، تاکہ لوگوں کو گمراه کرے یقیناً اللہ تعالیٰ ﻇالم لوگوں کو راستہ نہیں دکھلاتا۔

    حواشی

    [1] یہ بھی ثَمَانِيَةَ سے بدل ہے اور یہاں بھی دو دو قسم سے دونوں کے نر اور مادہ مراد ہیں اور یوں یہ آٹھ قسمیں پوری ہوگئیں۔ [2] یعنی تم جو بعض جانوروں کو حرام قرار دیتے ہو، کیا جب اللہ نے ان کی حرمت کا حکم دیا تو تم اس کے پاس موجود تھے؟ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تو ان کی حرمت کا کوئی حکم ہی نہیں دیا۔ یہ سب تمہارا افترا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو۔ [3] یعنی یہی سب سے بڑا ظالم ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ میں نے عمرو بن لحی کو جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچتے ہوئے دیکھا، اس نے سب سے پہلے بتوں کے نام پر وصیلہ اور حام وغیرہ جانور چھوڑنے کا سلسلہ شروع کیا تھا (صحيح بخاري سورة المائدة- صحيح مسلم، كتاب الجنة، باب النار يدخلها الجبارون والجنة ... يدخلها الضعفاء) امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ عمرو بن لحی، خزاعہ قبیلے کے سرداروں میں سے تھا جو جرہم قبیلے کے بعد خانہ کعبہ کا والی بنا تھا، اس نے سب سے پہلے دین ابراہیمی میں تبدیلی کی اور حجاز میں بت قائم کرکے لوگوں کو ان کی عبادت کرنے کی دعوت دی اور مشرکانہ رسمیں جاری کیں (ابن کثیر) بہرحال مقصود آیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آٹھ قسم کے جانور پیدا کرکے بندوں پر احسان فرمایا ہے، ان میں سے بعض جانوروں کو اپنی طرف سے حرام کرلینا ، اللہ کے احسان کو رد کرنا بھی ہے اور شرک کا ارتکاب بھی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 144 کی تفسیر

    [144] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی طرح اونٹ اور گائے کا ذکر فرمایا۔ جب ان کے قول کا بطلان اور فساد واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک ایسی بات کہی جس سے نکلنا ان کے بس میں نہ تھا۔ سوائے شریعت کی اتباع کے ﴿ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَؔ اِذْ وَصّٰؔىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا﴾ ’’کیا تم حاضر تھے جس وقت تم کو اللہ نے یہ حکم دیا تھا‘‘ یعنی تمھارے پاس اپنے دعویٰ کے سوا باقی کچھ بھی نہیں ، جس کی صداقت اور صحت کو پرکھنے کے لیے تمھارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ۔ اور وہ ہے تمھارا یہ کہنا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی وصیت کی ہے اور اس نے ہماری طرف وحی کی ہے جس طرح اس نے اپنے انبیا و مرسلین کی طرف وحی کی۔ بلکہ اس نے ہماری طرف ایسی وحی بھیجی جو اس چیز کے مخالف ہے جس کی طرف انبیا و رسل نے دعوت دی اور جس کے ساتھ کتابیں نازل ہوئیں ‘‘ اور یہ ایک ایسا بہتان ہے جس سے کوئی شخص ناواقف نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَ٘مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبً٘ا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﴾ ’’پس اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا تاکہ بغیر تحقیق کے لوگوں کو گمراہ کرے‘‘ یعنی اس کے جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر اس کے بہتان و افتراء باندھنے کے ساتھ وہ اس سے اللہ کے بندوں کو بغیر کسی دلیل و برہان اور بغیر کسی عقل و نقل کے، اللہ کے راستے سے گمراہ کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ جن کا ظلم و جور اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے کے سوا اور کوئی ارادہ نہیں ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 144 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاعرافالأعراف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید