الأنعام

انعام

165 آیاتمکیپارہ 7

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 146

    وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا كُلَّ ذِى ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ ٱلْبَقَرِ وَٱلْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَآ إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَآ أَوِ ٱلْحَوَايَآ أَوْ مَا ٱخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَـٰهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَـٰدِقُونَ

    اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کرد یئے تھے[1] اور گائے اور بکری میں سے ان دونوں کی چربیاں ان پر ہم نے حرام کردی تھیں مگر وه جو ان کی پشت پر یا انتڑیوں میں لگی ہو یا جو ہڈی سے ملی ہو[2]۔ ان کی شرارت کے سبب ہم نے ان کو یہ سزا دی[3] اور ہم یقیناً سچے ہیں۔[4]

    حواشی

    [1] ناخن والے جانور سے مراد وہ ہاتھ والے جانور ہیں جن کی انگلیاں پھٹی ہوئی یعنی جدا جدا نہ ہوں۔ جیسے اونٹ، شترمرغ، بطخ، قاز، گائے اور بکری وغیرہ۔ ایسے سب چرند پرند حرام تھے۔ گویا صرف وہ جانور اور پرندے ان کے لئے حلال تھے جن کے پنجے کھلے ہوں۔ [2] یعنی جو چربی گائے یا بکری کی پشت پر ہو (یا دنبے کی چکتی ہو) یا انتڑیوں (یا اوجھ) یا ہڈیوں کے ساتھ ملی ہوئی ہو۔ چربی کی یہ مقدار حلال تھی۔ [3] یہ چیزیں ہم نے بطور سزا ان پر حرام کی تھیں یعنی یہود کا یہ دعویٰ صحیح نہیں کہ یہ چیزیں حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام کی ہوئی تھیں اور ہم تو ان کے اتباع میں ان کو حرام سمجھتے ہیں۔ [4] اس کا مطلب یہ ہے کہ یہود یقینًا اپنے مذکورہ دعوے میں جھوٹے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 146 کی تفسیر

    [146] پس یہ تمام محرمات جو اس امت پر حرام قرار دی گئی ہیں یہ حفاظت اور تنزیہہ کی خاطر ہے۔اور وہ چیزیں جو اہل کتاب پر حرام قرار دی گئیں ان میں سے بعض پاک اور طیب تھیں مگر سزا کے طور پر ان چیزوں کو ان پر حرام کر دیا گیا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَعَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُ٘لَّ٘ ذِیْ ظُ٘فُرٍ ﴾ ’’اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والے جانور کو حرام کر دیا تھا‘‘مثلاً: اونٹ اور اس قسم کے دیگر جانور ﴿ وَمِنَ الْ٘بَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ ﴾ ’’اور گائے اور بکری میں سے حرام کیے تھے‘‘ ان کے بعض اجزاء ﴿ شُحُوْمَهُمَاۤ ﴾ اور وہ تھی ان کی چربی۔ اور ہر قسم کی چربی ان پرحرام نہ تھی بلکہ صرف دنبے کی چکتی اور اوجھڑی اور آنتوں کی باریک چربی حرام تھی، اس لیے اس میں سے حلال چربی کو مستثنی قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ﴾ ’’مگر وہ چربی جو پشت پر اور انتڑیوں کے ساتھ لگی ہوتی ہے‘‘ ﴿ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ﴾ ’’یا وہ چربی جو ہڈی کے ساتھ پیوست ہوتی ہے۔‘‘ ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یہودیوں پر نافذ کی گئی یہ تحریم ﴿ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ ﴾ ’’ایک سزا تھی جو ہم نے ان کو دی تھی ان کی شرارت پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کے بارے میں ان کے ظلم و تعدی کی جزا تھی، پس اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کے لیے یہ چیزیں حرام کر دی تھیں ﴿وَاِنَّا لَصٰؔدِقُوْنَ﴾ ’’اور ہم سچ کہتے ہیں ‘‘ یعنی ہم جو کچھ کہتے ہیں جو کرتے ہیں اور جو فیصلہ کرتے ہیں ، سب صدق پر مبنی ہوتا ہے اور اہل ایقان کے نزدیک اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا اور سب سے اچھے فیصلے کرنے والا کون ہے؟

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 146 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاعرافالأعراف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید