الأنعام

انعام

165 آیاتمکیپارہ 7

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 20

    ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٰهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ يَعْرِفُونَهُۥ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَآءَهُمُ ۘ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

    جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وه لوگ رسول کو پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہنچانتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈاﻻ ہے سو وه ایمان نہیں ﻻئیں گے۔[1]

    حواشی

    [1] ”يَعْرِفُونَهُ“ میں ضمیر کا مرجع رسول (صلى الله عليه وسلم) ہیں یعنی اہل کتاب آپ (صلى الله عليه وسلم) کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں کیونکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی صفات ان کتابوں میں بیان کی گئی تھیں اور ان صفات کی وجہ سے وہ آخری نبی کے منتظر بھی تھے۔ اس لئے اب ان میں سے ایمان نہ لانے والے سخت خسارے میں ہیں کیونکہ یہ علم رکھتے ہوئے بھی انکار کر رہے ہیں۔ فَإِنْ كُنْتَ لا تَدْرِي فَتِلْكَ مُصِيبَةٌ وَإِنْ كُنْتَ تَدْرِي فَالْمُصِيبَةُ أَعْظَمُ ”اگر تجھے علم نہیں ہے تو یہ بھی اگرچہ مصیبت ہی ہے تاہم اگر علم ہے تو پھر زیادہ بڑی مصیبت ہے“۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 20 کی تفسیر

    [20] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اپنی گواہی کا ذکر فرمایا جو سب سے بڑی گواہی ہے تو اپنے رسولe سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی خبر کی مخالفت کرنے والوں اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں سے کہہ دیجیے ﴿اَىِٕنَّـكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُ٘لْ لَّاۤ اَشْهَدُ ﴾ ’’کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں ، کہہ دیجیے! میں تو گواہی نہیں دیتا‘‘ یعنی اگر وہ گواہی دیں تو ان کے ساتھ گواہی مت دیجیے۔ پس اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لاشریک ہونے پر ایک طرف اللہ کی گواہی ہے جو سب سے زیادہ سچا اور تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور اسی طرح مخلوق میں سے پاکیزہ ترین ہستی (آخری رسول) کی گواہی ہے جس کی تائید میں قطعی دلائل اور روشن براہین ہیں اور دوسری طرف مشرکین کی شہادت ہے جن کی عقل اور دین خلط ملط ہو گئے ہیں جن کی آراء اور اخلاق خرابی کا شکار ہو گئے ہیں اور جنھوں نے عقل مندوں کو اپنے آپ پر ہنسنے کا موقع فراہم کیا ہے، ان دونوں شہادتوں کے درمیان موازنہ کیا جائے۔ بلکہ ان مشرکین کی گواہی تو خود ان کی اپنی فطرت کے خلاف ہے اور ان کے اقوال اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے خداؤں کے اثبات کے بارے میں متناقض ہیں ۔ بایں ہمہ جس چیز کی وہ مخالفت کرتے ہیں اس کے خلاف دلائل تو کجا ایک ادنیٰ سا شبہ بھی وارد نہیں ہو سکتا۔ اگر تو سمجھ بوجھ رکھتا ہے تو اپنے لیے ان دونوں میں سے کوئی سی گواہی چن لے۔ ہم تو اپنے لیے وہی چیز اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیe کے لیے اختیار کی ہے اور اس کی پیروی کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا ﴿قُ٘لْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰ٘هٌ وَّاحِدٌ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ صرف وہی ایک معبود ہے۔‘‘ یعنی وہ اکیلا معبود ہے اور اس کے سوا کوئی عبودیت اور الوہیت کا مستحق نہیں ، جیسے وہ تخلیق و تدبیر میں منفرد ہے ﴿ وَّاِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّؔمَّا تُ٘شْرِكُوْنَ ﴾ ’’اور میں بیزار ہوں تمھارے شرک سے‘‘ یعنی تم جن بتوں اور دیگر خداؤں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہو اور وہ تمام چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا جاتا ہے۔ میں ان سے براء ت کا اظہار کرتا ہوں ۔ یہ ہے توحید کی حقیقت، یعنی اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک سے اس کی نفی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اپنی اور اپنے رسول کی شہادت کا ذکر فرمایا اور اس کے برعکس مشرکین کی شہادت کا بھی ذکر کیا جن کے پاس کوئی علم نہیں۔ تو اہل کتاب میں سے یہود و نصاریٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ یَعْرِفُوْنَهٗ ﴾ ’’وہ پہچانتے ہیں اسے‘‘ یعنی وہ توحید کی صحت کو جانتے ہیں ﴿ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ ﴾ ’’جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ‘‘ یعنی اس کی صحت میں ان کے ہاں کسی بھی پہلو سے کوئی شک نہیں جیسے انھیں اپنی اولاد کے بارے میں کوئی اشتباہ واقع نہیں ہوتا، خاص طور پر وہ بیٹے جو غالب طور پر اپنے باپ کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر رسول اللہe کی طرف لوٹتی ہو تب اس کے معنی ہوں گے کہ آپe کی رسالت کے حق ہونے میں اہل کتاب کو کوئی اشتباہ تھا نہ کوئی شک۔ کیونکہ ان کے پاس آپ کی بعثت کے بارے میں بشارتیں موجود تھیں اور وہ تمام صفات (جو ان کی کتابوں میں لکھی ہوئی تھیں ) آپe کے سوا کسی پر منطبق ہوتی تھیں نہ آپe کے سوا کسی کے شایان شان تھیں ۔ دونوں معنی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں ۔ ﴿ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے اپنے نفسوں کو نقصان میں ڈالا‘‘ یعنی جس ایمان اور توحید کے لیے ان کے نفوس کو تخلیق کیا گیا تھا انھوں نے اپنے نفوس کو ان سے بے بہرہ کر دیا اور بزرگی کے مالک، بادشاہ حقیقی کے فضل سے ان کو محروم کر دیا ﴿ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ﴾ ’’پس وہ ایمان نہیں لائیں گے‘‘ پس جب ان کے اندر ایمان ہی موجود نہیں تو اس خسارے اور شر کے بارے میں مت پوچھ جو ان کو حاصل ہوگا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 20 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاعرافالأعراف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید