الأنعام

انعام

165 آیاتمکیپارہ 7

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 25

    وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ ۖ وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرًا ۚ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوكَ يُجَـٰدِلُونَكَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّآ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

    اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں[1] اور ہم نے ان کے دلوں پر پرده ڈال رکھا ہے اس سے کہ وه اس کو سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے رکھی ہے[2] اور اگر وه لوگ تمام دﻻئل کو دیکھ لیں تو بھی ان پر کبھی ایمان نہ ﻻئیں، یہاں تک کہ جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے خواه مخواه جھگڑتے ہیں، یہ لوگ جو کافر ہیں یوں کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ بھی نہیں صرف بے سند باتیں ہیں جو پہلوں سے چلی آ رہی ہیں۔[3]

    حواشی

    [1] یعنی یہ مشرکین آپ کے پاس آکر قرآن تو سنتے ہیں لیکن چونکہ مقصد طلب ہدایت نہیں، اس لئے بےفائدہ ہے۔ [2] علاوہ ازیں مُجَازَاةً عَلَى كُفْرِهِمْ ان کے نتیجے میں ان کے دلوں پر بھی ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں اور ان کے کانوﮞ میں ڈاٹ جس کی وجہ سے ان کے دل حق بات سمجھنے سے قاصراور ان کے کان حق کو سننےسے عاجز ہیں۔ [3] اب وہ گمراہی کی ایسی دلدل میں پھنس گئے ہیں کہ بڑے سے بڑا معجزہ بھی دیکھ لیں، تب بھی ایمان لانے کی توفیق سے محروم رہیں گے اور ان کا عناد وجحود اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ قرآن کریم کو پہلے لوگوں کی بے سند کہانیاں کہتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 25 کی تفسیر

    [25] یعنی ان مشرکین میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کو ان کے بعض داعیے بسا اوقات سننے پر آمادہ کر دیتے ہیں مگر یہ سننا قصدِ حق اور اس کی اتباع سے عاری ہوتا ہے بنابریں وہ اس سننے سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ کیونکہ ان کا ارادہ بھلائی کا نہیں ہوتا ﴿وَجَعَلْنَا عَلٰى قُ٘لُوْبِهِمْ اَكِنَّةً ﴾ ’’اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں ‘‘ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو نہ سمجھیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام اس قسم کے لوگوں سے محفوظ رہے ﴿ وَفِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْ٘رًا ﴾ ’’اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے۔‘‘ یعنی ان کے کانوں میں بہرا پن اور گرانی ہے وہ اس طرح نہیں سن سکتے جس سے ان کو کوئی فائدہ پہنچے۔ ﴿وَاِنْ یَّرَوْا كُ٘لَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا ﴾ ’’اور اگر وہ دیکھ لیں تمام نشانیاں ، تب بھی ایمان نہیں لائیں گے‘‘ اور یہ ظلم و عناد کی انتہا ہے کہ وہ حق کو ثابت کرنے والے واضح دلائل کو مانتے ہیں نہ ان کی تصدیق کرتے ہیں بلکہ حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کی مدد سے جھگڑتے ہیں ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں جھگڑنے کو تو کافر کہتے ہیں ، یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یعنی یہ سب کچھ پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کتابوں سے ماخوذ کیا گیا ہے جو اللہ کی طرف سے ہیں نہ اس کے رسولوں کی طرف سے۔ یہ ان کا کفر محض ہے ورنہ اس کتاب کو پہلے لوگوں کی کہانیاں کیسے کہا جا سکتا ہے جو گزرے ہوئے اور آنے والے لوگوں ، انبیا و مرسلین کے لائے ہوئے حقائق، حق اور ہرپہلو سے کامل عدل و انصاف پر مشتمل ہے؟

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 25 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاعرافالأعراف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید