الأنعام

انعام

165 آیاتمکیپارہ 7

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 58

    قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِۦ لَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِٱلظَّـٰلِمِينَ

    آپ کہہ دیجئے کہ اگر میرے پاس وه چیز ہوتی جس کا تم تقاضا کر رہے ہو تو میرا اور تمہارا باہمی قصہٴ فیصل[1] ہوچکا ہوتا اور ﻇالموں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔

    حواشی

    [1] یعنی اگر اللہ تعالیٰ میرے طلب کرنے پر فوراً عذاب بھیج دیتا یا اللہ تعالیٰ میرے اختیار میں یہ چیز دے دیتا تو پھر تمہاری خواہش کے مطابق عذاب بھیج کر جلد ہی فیصلہ کردیا جاتا۔ لیکن یہ معاملہ چونکہ کلیتاً اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، اس لئے اس نے مجھے اس کا اختیار دیا ہے اور نہ ہی ممکن ہے کہ میری درخواست پر فوراً عذاب نازل فرما دے۔ ضروری وضاحت: حدیث میں جو آتا ہے کہ ایک موقعے پر اللہ کے حکم سے پہاڑوں کا فرشتہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے خدمت میں آیا اور اس نے کہا کہ اگر آپ (صلى الله عليه وسلم) حکم دیں تو میں ساری آبادی کو دونوں پہاڑوں کے درمیان کچل دوں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں سے اللہ کی عبادت کرنے والا پیدا فرمائے گا، جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے“ (صحيح بخاري، كتاب بدء الخلق، باب إذا قال أحدكم آمين والملائكة في السماء ... وصحيح مسلم، كتاب الجهاد باب ما لقي النبي من أذى المشركين) یہ حدیث آیت زیرِ وضاحت کے خلاف نہیں ہے، جیسا کہ بظاہر معلوم ہوتی ہے، اس لئے کہ آیت میں عذاب طلب کرنے پر عذاب دینے کا اظہار ہے جب کہ اس حدیث میں مشرکین کے طلب کئے بغیر صرف ان کی ایذا دہی کی وجہ سے ان پر عذاب بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے جسے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے پسند نہیں فرمایا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 58 کی تفسیر

    [58] ﴿ قُ٘لْ ﴾ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو جہالت، عناد اور ظلم کی بنا پر عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ﴿ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ۠ بِهٖ لَ٘قُ٘ضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَبَیْنَكُمْ ﴾ ’’اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کی تم جلدی کر رہے ہو تو طے ہو چکا ہوتا جھگڑا، میرے اور تمھارے درمیان‘‘ پس میں تم پر عذاب واقع کر دیتا۔ اس جلدی مچانے میں تمھارے لیے بھلائی نہیں ۔ لیکن تمام تر معاملہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ اختیار میں ہے جو نہایت بردبار اور صبر کرنے والا ہے، نافرمان اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور گناہوں کا ارتکاب کرنے والے اس کے سامنے بڑی جرأ ت سے گناہ کرتے ہیں مگر وہ ان سے درگزر کرتا ہے، ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بھی نوازتا ہے ﴿ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے‘‘ ان کے احوال میں سے کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے، پس وہ ان کو مہلت دیتا ہے مگر مہمل نہیں چھوڑتا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 58 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاعرافالأعراف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید