الأنعام

انعام

165 آیاتمکیپارہ 7

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 61

    وَهُوَ ٱلْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِۦ ۖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ

    اور وہی اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے برتر ہے اور تم پر نگہداشت رکھنے والے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آ پہنچتی ہے، اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے قبض کرلیتے ہیں اور وه ذرا کوتاہی نہیں کرتے۔[1]

    حواشی

    [1] یعنی اپنے اس مفوضہ کام میں اور روح کی حفاظت میں بلکہ وہ فرشتہ، مرنے والا اگر نیک ہوتا ہے تو اس کی روح عِلِّيِّينَ میں اور اگر بد ہوتا ہے توسِجِّينٌ میں، بھیج دیتا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 61 کی تفسیر

    [61] ﴿ وَهُوَ ﴾ ’’اور وہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ﴿ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ﴾ ’’غالب ہے اپنے بندوں پر‘‘ وہ ان پر اپنا ارادہ اور اپنی مشیت عامہ نافذ کرتا ہے۔ بندے کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر حرکت و سکون کے بھی مالک نہیں ۔ بایں ہمہ اس نے اپنے بندوں پر فرشتوں کو محافظ مقرر کر رکھا ہے اور بندے جو عمل کرتے ہیں یہ فرشتے اس کو محفوظ کر لیتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰؔفِظِیْنَۙ۰۰ كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ۰۰یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ ﴾ (الانفطار: 82؍10-12) ’’اور تم پر نگہبان مقرر ہیں باعزت اور تمھاری باتوں کو لکھنے والے ہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں ۔‘‘ ارشاد فرماتا ہے ﴿ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ۰۰ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ﴾ (ق: 50؍17،18) ’’اس کے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوتے ہیں وہ جب کوئی بات کہتا ہے تو ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔‘‘ یہ ان کی زندگی کے احوال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حفاظت ہے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَؔ اَحَدَؔكُمُ الْ٘مَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپہنچے تم میں سے کسی کو موت تو قبضے میں لے لیتے ہیں اس کو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے‘‘ یعنی وہ فرشتے جو روح قبض کرنے پر مقرر ہیں ﴿ وَهُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ ﴾ ’’اور وہ کوتاہی نہیں کرتے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قضا و قدر سے جو مدت مقرر کر دی ہے وہ اس میں ایک گھڑی کا اضافہ کر سکتے ہیں نہ ایک گھڑی کی کمی، وہ صرف مکتوب الٰہی اور تقدیر ربانی کو نافذ کرتے ہیں ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 61 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاعرافالأعراف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید