الأنعام

انعام

165 آیاتمکیپارہ 7

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 70

    وَذَرِ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ بِهِۦٓ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِىٌّ وَلَا شَفِيعٌ وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَآ ۗ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أُبْسِلُوا۟ بِمَا كَسَبُوا۟ ۖ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ

    اور ایسے لوگوں سے بالکل کناره کش رہیں جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے اور دنیوی زندگی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے اور اس قرآن کے ذریعہ سے نصیحت بھی کرتے رہیں تاکہ کوئی شخص اپنے کردار کے سبب (اس طرح) نہ پھنس جائے[1] کہ کوئی غیر اللہ اس کا نہ مددگار ہو اور نہ سفارشی اور یہ کیفیت ہو کہ اگر دنیا بھر کا معاوضہ بھی دے ڈالے تب بھی اس سے نہ لیا جائے[2]۔ ایسے ہی ہیں کہ اپنے کردار کے سبب پھنس گئے، ان کے لئے نہایت تیز گرم پانی پینے کے لئے ہوگا اور دردناک سزا ہوگی اپنے کفر کے سبب۔

    حواشی

    [1] ”تُبْسَلَ“ أي: لِئَلاَّ تُبْسَلَ، بَسَلٌ کے اصل معنی تو منع کے ہیں، اسی سے ہے شُجَاعٌ بَاسِلٌ لیکن یہاں اس کے مختلف معنی کئے گئے ہیں۔ (1) تُسَلَّمُ (سونپ دیئے جائیں) (2) تُفْضَحُ (رسوا کردیا جائے) (3) تُؤَاخَذُ (مواخذہ کیا جائے) (4) تُجَازَى (بدلہ دیا جائے)۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ سب کے معنی قریب قریب ایک ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ انہیں اس قرآن کے ذریعے سے نصیحت کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نفس کو، جو اس نے کمایا، اس کے بدلے ہلاکت کے سپرد کردیاجائے۔ یا رسوائی اس کا مقدر بن جائے یا وہ مواخذہ اور مجازات کی گرفت میں آجائے۔ ان تمام مفہوم کو فاضل مترجم نے (پھنس نہ جائے) سے تعبیر کیا ہے۔ [2] دنیا میں انسان عام طور پر کسی دوست کی مدد یا کسی سفارش سے یا مالی معاوضہ دے کرچھوٹ جاتا ہے۔ لیکن آخرت میں یہ تینوں ذریعے کام نہیں آئیں گے۔ وہاں کافروں کا کوئی دوست نہ ہوگا جو انہیں اللہ کی گرفت سے بچا لے، نہ کوئی سفارشی ہو گا جو انہیں عذاب الٰہی سے نجات دلا دے اور نہ کسی کے پاس معاوضہ دینے کے لئے کچھ ہوگا، اگر بالفرض ہو بھی تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا کہ وہ دے کر چھوٹ جائے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 70 کی تفسیر

    [70] بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کریں ، یعنی اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں ، اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے محبوب امور کے حصول میں مقدور بھر کوشش صرف کریں اور یہ چیز اس بات کو متضمن ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر اور اس کی طرف متوجہ رہے، بندے کی کوشش انتہائی سنجیدہ اور نفع مند ہو نہ کہ غیر سنجیدہ اور یہ کوشش اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اس میں ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ نہ ہو۔ یہی وہ حقیقی دین ہے جس کو دین کہا ہے۔ رہا وہ شخص جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ صاحب دین اور صاحب تقویٰ ہے اور حالت یہ ہے کہ اس نے دین کو لہو و لعب بنا رکھا ہے اور اس کا قلب اللہ تعالیٰ کی محبت اور معرفت سے خالی ہو کر لہو و لعب میں مستغرق ہو گیا اور ہر اس چیز میں مصروف ہو گیا جو اس کے لیے ضرر رساں ہے وہ اپنے بدن کے ساتھ لہو اور باطل میں مشغول ہے کیونکہ عمل اور بھاگ دوڑ اگر غیر اللہ کے لیے ہو تو وہ لہو و لعب ہے.... تو اس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے، اس سے بچا جائے، اس سے دھوکہ نہ کھایا جائے اور اس کے احوال پر غور کیا جائے، اس کی کارستانیوں سے ہشیار رہے اور وہ تقرب الٰہی والے اعمال سے روکے تو اس کے دھوکے میں نہ آئے۔ ﴿ وَذَكِّ٘رْ بِهٖۤ﴾ ’’اور اس کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہیں ۔‘‘ یعنی قرآن کے ذریعے سے ان کو نصیحت کیجیے جو بندوں کے لیے نفع مند ہے قرآن کے احکامات سنا کر، اس کی تفصیلات بیان کر کے، قرآن میں جو اچھے اوصاف مذکور ہیں ان کی تحسین کر کے اور وہ اوصاف جو بندوں کے لیے ضرر رساں ہیں ان سے ان کو منع کر کے، اس کی انواع کی تفصیل بیان کیجیے اور جو قبیح اوصاف بیان ہوئے ہیں جن کا ترک کرنا ضروری ہے (ان سب کے ساتھ) ان کو نصیحت کیجیے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ کہیں نفس اپنے کسب کی وجہ سے ہلاکت میں نہ ڈال دیا جائے، یعنی بندے کا گناہوں میں گھس جانے، اللہ علام الغیوب کے سامنے جرأت کرنے اور گناہوں پر قائم رہنے سے پہلے اسے نصیحت کیجیے تاکہ وہ باز آجائے اور اپنے فعل سے رک جائے۔ ﴿ لَ٘یْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّلَا شَ٘فِیْعٌ ﴾ ’’نہیں ہو گا واسطے اس کے، اللہ کے سوا، کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی‘‘ یعنی نفس کو اس کے گناہوں کا احاطہ کر لینے سے پہلے نصیحت کرو کیونکہ اس کے بعد مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے کام نہ آئے گا۔ نہ کوئی قریبی رشتہ دار اور نہ کوئی دوست، اللہ کے سوا اس کا کوئی ولی اور مددگار نہ ہو گا اور نہ اس کی کوئی سفارش کرنے والا ہو گا ﴿ وَاِنْ تَعْدِلْ كُ٘لَّ٘ عَدْلٍ ﴾ ’’اگرچہ وہ ہر چیز معاوضے میں دینا چاہے۔‘‘ یعنی اگر یہ نفس ہر قسم کا فدیہ دے خواہ وہ زمین بھر سونا کیوں نہ ہو ﴿ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا ﴾ ’’وہ اس سے قبول نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ یہ فدیہ کوئی فائدہ دے گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو مذکورہ اوصاف سے موصوف ہیں ﴿ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا ﴾ ’’جنھیں ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی ان کو ہلاک کر دیا گیا اور وہ ہر قسم کی بھلائی سے مایوس ہو گئے اور یہ ان کے اعمال کے سبب سے ہے ﴿لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ ﴾ ’’ان کا مشروب ابلتا ہوا گرم پانی ہو گا‘‘ جو ان کے چہروں کو بھون دے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا ﴿ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْ٘فُرُوْنَ ﴾ ’’اور ان کے کفر کی پاداش میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 70 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاعرافالأعراف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید