الأنعام

انعام

165 آیاتمکیپارہ 7

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 84

    وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَـٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

    اور ہم نے ان کو اسحاق دیا اور یعقوب[1] ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی اور پہلے زمانہ میں ہم نے نوح کو ہدایت کی اور ان کی اوﻻد میں سے[2] داؤد کو اور سلیمان کو اور ایوب کو اور یوسف کو اور موسیٰ کو اور ہارون کو اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔

    حواشی

    [1] یعنی بڑھاپے میں، جب کہ وہ اولاد سے ناامید ہوگئے تھے، جیسا کہ سورۂ ہود،آیت 73،72 میں ہے، پھر بیٹے کے ساتھ ایسے پوتے کی بھی بشارت دی جو یعقوب (عليه السلام) ہوگا، جس کے معنی میں یہ مفہوم شامل ہے کہ اس کے بعد ان کی اولاد کا سلسلہ چلے گا، اس لئے کہ یہ عقب (پیچھے) سے مشتق ہے۔ [2] ”ذُرِّيَّتِهِ“ میں ضمیر کا مرجع بعض مفسرین نے حضرت نوح (عليه السلام) کو قرار دیا ہے کیونکہ وہی اقرب ہیں۔ یعنی حضرت نوح (عليه السلام) کی اولاد میں سے داود اور سلیمان علیہما السلام کو۔ اور بعض نے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کو۔ اس لئے کہ ساری گفتگو ان ہی کے ضمن میں ہو رہی ہے۔ لیکن اس صورت میں یہ اشکال پیش آتا ہے کہ پھر لوط (عليه السلام) کا ذکر اس فہرست میں نہیں آنا چاہیئے تھا کیونکہ وہ ذریت ابراہیم (عليه السلام) میں سے نہیں ہیں۔ وہ ان کے بھائی ہاران بن آزر کے بیٹے یعنی ابراہیم (عليه السلام) کے بھتیجے ہیں۔ اور ابراہیم (عليه السلام) ، لوط (عليه السلام) کے باپ نہیں، چچا ہیں۔ لیکن بطور تغلیب انہیں بھی ذریت ابراہیم (عليه السلام) میں شمار کر لیا گیا ہے۔ اس کی ایک اور مثال قرآن مجید میں ہے۔ جہاں حضرت اسماعیل (عليه السلام) کو اولاد یعقوب (عليه السلام) کے آبا میں شمار کیا گیا ہے جب کہ وہ ان کے چچا تھے۔ (دیکھیے سورۂ بقرۃ آیت 133)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 84 کی تفسیر

    جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندے اور خلیل ابراہیمu کا اور اپنے اس احسان کا ذکر کیا کہ اللہ نے ان کو علم، دعوت اور صبر سے نوازا تو اب ذکر فرما رہا ہے کہ صالح اور پاک نسل کے ذریعے سے بھی اللہ نے ان کو بڑی تکریم بخشی۔ اللہ نے مخلوق میں سے منتخب اور چنے ہوئے لوگ حضرت ابراہیمu کی نسل میں سے بنائے اور یہ اتنی بڑی منقبت اور اتنی زیادہ عزت افزائی ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    [84] ﴿ وَوَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰؔقَ وَیَعْقُوْبَ ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے اسحاق اور یعقوب‘‘ یعقوب یعنی اسحاقu کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔ ﴿ كُلًّا ﴾ ’’سب کو‘‘ یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک کو ﴿ هَدَیْنَا ﴾ ’’ہم نے ہدایت دی۔‘‘ یعنی علم و عمل میں راہ راست دکھائی ﴿وَنُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ ﴾ ’’اس سے قبل ہم نے نوح کو ہدایت سے نوازا‘‘ یہ ہدایت اعلیٰ ترین انواع میں سے تھی جو دنیا کے صرف معدودے چند افراد کو حاصل ہوئی ہے اور وہ اولو العزم رسول تھے۔ نوحu ان میں سے ایک تھے۔ ﴿ وَمِنْ ذُرِّیَّتِهٖ﴾ ’’اور ان کی نسل میں سے‘‘ اس میں احتمال ہے کہ ضمیر نوح (u) کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ یہ قریب ترین مرجع ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساتھ ہی حضرت لوط کا ذکر کیا جو کہ نوح کی ذریت سے ہیں ، حضرت ابراہیم کی ذریت سے نہیں کیونکہ حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے بھتیجے تھے۔۔۔ نیز اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ضمیر حضرت ابراہیمu کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ سیاق کلام ابراہیمu کی مدح و ثنا میں ہے اور لوطu اگرچہ حضرت ابراہیمu کی ذریت میں سے نہیں ہیں تاہم یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جناب خلیلu کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے۔ حضرت لوط کا حضرت ابراہیم پر ایمان لانا مجرد ان کا بیٹا ہونے سے زیادہ ان کے لیے منقبت اور فضیلت کا حامل ہے۔ ﴿ دَاوٗدَ وَسُلَ٘یْمٰنَ ﴾ ’’داود اور سلیمان‘‘ یعنی سلیمان بن داؤدi ﴿ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ ﴾ ’’ایوب اور یوسف‘‘ یعنی ایوب اور یوسف بن یعقوبo ﴿وَمُوْسٰؔى وَهٰرُوْنَ ﴾ ’’موسیٰ اور ہارون‘‘ یعنی عمران کے بیٹے ﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ یعنی جس طرح ہم نے ابراہیم خلیل اللہu کی ذریت کو صالح بنایا کیونکہ ابراہیمu نے اپنے رب کی بندگی کو بہترین طریقے سے ادا کیا اور اللہ کی مخلوق کو بہترین طریقے سے فائدہ پہنچایا ﴿ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ﴾ ’’ہم بدلہ دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو‘‘ نیکوکار لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ہم انھیں ان کی نیکیوں کے مطابق سچی مدح و ثنا اور صالح اولاد سے نوازتے ہیں ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 84 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاعرافالأعراف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید