الأنعام

انعام

165 آیاتمکیپارہ 7

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 90

    أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ ۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقْتَدِهْ ۗ قُل لَّآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَـٰلَمِينَ

    یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی، سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیئے[1] آپ کہہ دیجیئے کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتا[2] یہ تو صرف تمام جہان والوں کے واسطے ایک نصیحت ہے۔[3]

    حواشی

    [1] اس سے مراد انبیا مذکورین ہیں۔ ان کی اقتدا کا حکم مسئلہ توحید میں اور ان احکام وشرائع میں ہے جو منسوخ نہیں ہوئے۔ (فتح القدیر) کیونکہ اصول دین تمام شریعتوں میں ایک ہی رہے ہیں، گو شرائع اور مناہج میں کچھ کچھ اختلاف رہا۔ جیسا کہ آیت ”شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا“ (الشورى: 3) سے واضح ہے۔ [2] یعنی تبلیغ ودعوت کا، کیونکہ مجھے اس کا وہ صلہ ہی کافی ہے جو آخرت میں عنداللہ ملے گا۔ [3] جہان والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ پس یہ قرآن انہیں کفر وشرک کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی عطا کرے گا اور ضلالت کی پگڈنڈیوں سے نکال کر ایمان کی صراط مستقیم پر گامزن کردے گا۔ بشرطیکہ کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنا چاہے، ورنہ ع دیدۂ کور کو کیا نظر آئے کیا دیکھیے۔ والا معاملہ ہوگا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 90 کی تفسیر

    [90] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی یہ مذکورہ بالا لوگ ﴿ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقْتَدِهْ ﴾ ’’وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی، پس آپ ان کی ہدایت کی پیروی کریں ‘‘ یعنی اے رسول کریم (e) ان انبیائے اخیار کی پیروی اور ان کی ملت کی اتباع کیجیے۔ اور واقعی رسول اللہe نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پہلے انبیا و مرسلین کی پیروی کی اور ان کے ہر کمال کو اپنے اندر جمع کر لیا۔ آپe کے اندر ایسے فضائل اور خصائص جمع تھے جن کی بنا پر آپ کو تمام جہانوں پر فوقیت حاصل تھی آپ تمام انبیا و مرسلین کے سردار اور متقین کے امام تھے۔ صلوات اللٰہ وسلامہ علیہ وعلیھم اجمعین۔ یہ ہے (آپe کی سیرت کا) وہ پہلو جس سے بعض صحابہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہe تمام انبیا و مرسلین سے افضل ہیں ۔ ﴿ قُ٘لْ﴾ یعنی ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے آپe کی دعوت سے اعراض کیا ﴿ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا ﴾ ’’میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی میں تم سے اپنی تبلیغ اور تمھیں اسلام کی دعوت دینے کے عوض کسی مال اور تاوان کا مطالبہ نہیں کرتا جو تمھارے اسلام نہ لانے کا سبب بنے، میرا اجر صرف اللہ کے ذمے ہے ﴿ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْ٘عٰلَمِیْنَ ﴾ ’’یہ تو محض نصیحت ہے جہان کے لوگوں کے لیے‘‘ وہ جو ان کے لیے مفید ہے، اس سے نصیحت پکڑتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور جو چیز ان کے لیے ضرر رساں ہے، اسے چھوڑ دیتے ہیں ۔ وہ اس کے ذریعے سے اپنے رب اور اس کے اسماء و صفات کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اخلاق حمیدہ، ان کے حصول کے مناہج اور اخلاق رذیلہ اور ان میں مبتلا کرنے والے امور کا علم حاصل کرتے ہیں ۔ چونکہ یہ تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے اس لیے یہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور ان پر واجب ہے کہ وہ اس نعمت کو قبول کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 90 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتاعرافالأعراف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید