اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو تم ان کا امتحان لو[1] ۔ دراصل ان کے ایمان کو بخوبی جاننے واﻻ تو اللہ ہی ہے لیکن اگر وه تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں[2] تو اب تم انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو، یہ ان کے لیے حلال نہیں اور نہ وه ان کے لیے حلال ہیں[3]، اور جو خرچ ان کافروں کا ہوا ہو وه انہیں ادا کردو[4]، ان عورتوں کو ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناه نہیں[5] اور کافر عورتوں کی ناموس اپنے قبضہ میں نہ رکھو[6] اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو[7]، مانگ لو اور جو کچھ ان کافروں نے خرچ کیا ہو[8] وه بھی مانگ لیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو تمہارے درمیان کر رہا ہے[9]، اللہ تعالیٰ بڑے علم (اور) حکمت واﻻ ہے.
حواشی
[1] معاہدۂ حدیبیہ میں ایک شق یہ تھی کہ مکے سے کوئی مسلمانوں کے پاس چلا جائے گا، تو اس کو واپس کرنا پڑے گا۔ لیکن اس میں مرد وعورت کی صراحت نہیں تھی۔ بظاہر کوئی (احد) میں دونوں ہی شامل تھے۔ چنانچہ بعد میں بعض عورتیں مکے سے ہجرت کرکے مسلمانوں کے پاس چلی گئیں تو کفار نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا، جس پر اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی اور یہ حکم دیا۔ امتحان لینے کا مطلب ہے اس امر کی تحقیق کرو کہ ہجرت کرکے آنے والی عورت جو ایمان کا اظہار کر رہی ہے، اپنے کافر خاوند سے ناراض ہوکر یا کسی مسلمان کے عشق میں یا کسی اور غرض سے تو نہیں آئی ہے اور صرف یہاں پناہ لینے کی خاطر ایمان کا دعویٰ کر رہی ہے۔
[2] یعنی تم اپنی تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچو اور تمہیں گمان غالب حاصل ہو جائے کہ یہ واقعی مومنہ ہیں۔
[3] یہ انہیں ان کے کافر خاوندوں کے پاس واپس نہ کرنے کی علت ہے کہ اب کوئی مومن عورت کسی کافر کے لیے حلال نہیں۔ جیسا کہ ابتدائے اسلام میں یہ جائز تھا، چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی صاحبزادی حضرت زینب (رضی الله عنها) کا نکاح ابو العاص ابن ربیع کے ساتھ ہوا تھا، جب کہ وہ مسلمان نہیں تھے۔ لیکن اس آیت نے آئندہ کے لیے ایسا کرنے سے منع کر دیا، اسی لیے یہاں فرمایا گیا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے حلال نہیں، اس لیے انہیں کافروں کے پاس مت لوٹاؤ۔ ہاں اگر شوہر بھی مسلمان ہو جائے تو پھر ان کا نکاح برقرار رہ سکتا ہے۔ چاہے خاوند عورت کے بعد ہجرت کرکے آئے۔
[4] یعنی ان کے کافر خاوندوں نے ان کو جو مہر ادا کیا ہے ، وہ تم انہیں ادا کر دو۔
[5] یہ مسلمانوں کو کہا جارہا ہے کہ یہ عورتیں، جو ایمان کی خاطر اپنے کافر خاوندوں کو چھوڑ کر تمہارے پاس آگئی ہیں ، تم ان سے نکاح کر سکتے ہو، بشرطیکہ ان کا حق مہر تم ادا کرو۔ تاہم یہ نکاح مسنون طریقے سے ہی ہوگا۔ یعنی ایک تو انقضائے عدت (استبراء رحم) کے بعد ہوگا۔ دوسرے، اس میں ولی کی اجازت اور دو عادل گواہوں کی موجودگی بھی ضروری ہے۔ البتہ عورت مدخول بہا نہیں ہے تو پھر بلاعدت فوری نکاح جائز ہے۔
[6] عِصَمٌ، عِصْمَةٌ کی جمع ہے، یہاں اس سے مراد عصمت عقد نکاح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر خاوند مسلمان ہو جائے اور بیوی بدستور کافر اور مشرک رہے تو ایسی مشرک عورت کو اپنے نکاح میں رکھنا جائز نہیں ہے۔ اسے فوراً طلاق دے کر اپنے سے علیحدہ کر دیا جائے۔ چنانچہ اس حکم کے بعد حضرت عمر (رضي الله عنه) نے اپنی دو مشرک بیویوں کو اور حضرت طلحہ ابن عبید اللہ (رضي الله عنه) نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ (ابن کثیر) البتہ اگر بیوی کتابیہ (یہودی یا عیسائی) ہو تو اسے طلاق دینا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ ان سے نکاح جائز ہے، اس لیے اگر وہ پہلے سے ہی بیوی کی حیثیت سے تمہارے پاس موجود ہے تو قبول اسلام کے بعد اسے علیحدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
[7] یعنی ان عورتوں پر جو کفر پر برقرار رہنے کی وجہ سے کافروں کے پاس چلی گئی ہیں۔
[8] یعنی ان عورتوں پر جو مسلمان ہوکر ہجرت کرکے مدینے آگئی ہیں۔
[9] یعنی یہ حکم مذکور کہ دونوں ایک دوسرے کو حق مہر ادا کریں بلکہ مانگ کرلیں، اللہ کا حکم ہے۔ امام قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ حکم اس دور کے ساتھ ہی خاص تھا۔ اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ (فتح القدیر) اس کی وجہ وہ معاہدہ ہے جو اس وقت فریقین کے درمیان تھا۔ اس قسم کے معاہدے کی صورت میں آئندہ بھی اس پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔ بصورت دیگر نہیں۔
تفسیر سعدی (اردو)
آیات 10 کی تفسیر
[10] صلح حدیبیہ میں جب رسول اللہ e نے مشرکین مکہ کے ساتھ اس شرط پر معاہدہ کیا کہ کفار میں سے جو کوئی مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آئے تو وہ مشرکین کو واپس کر دیا جائے گا۔ یہ عام اور مطلق لفظ تھا، جس کے عموم میں مرد اور عورت سب شامل ہیں۔ مردوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ایفائے شرط اور معاہدۂ صلح کو پورا کرنے کے لیے کفار کی طرف واپس لوٹانے سے اپنے رسول کو منع نہیں کیا، جو سب سے بڑی مصلحت تھی۔
رہی عورتیں تو چونکہ ان کے واپس لوٹانے میں بہت سے مفاسد تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ جب مومن عورتیں ہجرت کر کے ان کے پاس آئیں، اور ان کو ان عورتوں کے ایمان کی صداقت میں شک ہو، تو ان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیا کریں، تاکہ سخت قسم وغیرہ کے ذریعے سے، ان کی صداقت ظاہر ہو جائے، کیونکہ اس بات کا احتمال ہو سکتا ہے کہ ان کے ایمان میں صداقت نہ ہو، بلکہ شوہر یا شہر وغیرہ دنیاوی مقاصد کے لیے ہجرت کی ہو، اگر ان میں یہ وصف پایا جائے، تو ایفائے شرط کے لیے کسی خرابی کے حصول کے بغیر ان کا واپس کیا جانا طے شدہ ہے۔ اگر اہل ایمان نے ان کو جانچ لیا اور ان کو سچا پایا ہو، یا جانچ پڑتال کے بغیر ہی اہل ایمان کو ان کے مومن ہونے کا علم ہو، تو وہ ان عورتوں کو کفار کی طرف واپس نہ بھیجیں ﴿ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَ٘هُنَّ ﴾ ’’یہ (عورتیں) ان (کافروں) کے لیے حلال ہیں نہ وہ (کافر) ان کے لیے۔‘‘ یہ بہت بڑی خرابی ہے جس کی شارع نے رعایت رکھی ہے، شارع نے ایفائے شرط کی بھی رعایت رکھی کہ ان عورتوں کے عوض میں ان کے کفار شوہروں کو وہ مہر اور اس کے توابع وغیرہ واپس لوٹا دیے جائیں جو انھوں نے ان عورتوں پر خرچ کیے ہیں۔ تب مسلمانوں کے لیے، ان عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں، خواہ دارالشرک میں ان کے (مشرک) شوہر موجود ہوں مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان عورتوں کو مہر اور نان و نفقہ ادا کریں۔
جس طرح مسلمان عورت کافر کے لیے حلال نہیں، اسی طرح اہل کتاب کے سوا کافر عورت، جب تک وہ اپنے کفر پر قائم ہے، مسلمان مرد کے لیے حلال نہیں، اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ ﴾ ’’اور تم کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں رکھنے سے منع کیا ہے تب ان کے ساتھ نکاح کی ابتدا تو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہے ﴿ وَسْـَٔلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ ﴾ اے مومنو! جب تمھاری مرتد بیویاں کفار کی طرف واپس لوٹیں تو ان سے اس مال کا مطالبہ کرو، جو تم نے ان پر خرچ کیا ہے۔ جب کفار اپنی ان عورتوں کو عطا کیا ہو امہر وصول کر سکتے ہیں، جو مسلمان ہو گئی ہوں، تب اس کے مقابلے مسلمان بھی اس مہر کو وصول کرنے کے مستحق ہیں جو ان کی (مرتد) بیویوں کے ساتھ کفار کے پاس گیا ہے۔
اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا اپنے شوہر کی زوجیت سے نکلنا قیمت رکھتا ہے ، اگر کوئی فاسد کرنے والا عورت کے نکاح کو رضاعت یا کسی اور سبب کی بنا پر فاسد کر دے، تو اس کے مہر کی ضمان ہے، یعنی مہر کی ادائیگی ضروری ہے ﴿ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ ﴾ یعنی یہ فیصلہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے، جو اس نے تمھارے سامنے بیان کر کے واضح کیا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ جاننے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کون سے احکام تمھارے لیے درست ہیں ، پس وہ اپنی حکمت اور رحمت کے مطابق اپنے احکام مشروع کرتا ہے۔