الممتحنة

ممتحنہ

13 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 6

    لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلْـَٔاخِرَ ۚ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ

    یقیناً تمہارے لیے ان میں[1] اچھا نمونہ (اور عمده پیروی ہے خاص کر) ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہو[2]، اور اگر کوئی روگردانی کرے[3] تو اللہ تعالیٰ بالکل بےنیاز ہے اور سزا وار حمد وﺛنا ہے.

    حواشی

    [1] یعنی ابراہیم (عليه السلام) کے اور ان کے ساتھی اہل ایمان میں۔ یہ تکرار تاکید کے لیے ہے۔ [2] کیونکہ ایسے ہی لوگ اللہ سے اور عذاب آخرت سے ڈرتے ہیں، یہی لوگ حالات وواقعات سے عبرت پکڑتے اور نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ [3] یعنی حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے اسوے کو اپنانے سے گریز کرے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 6 کی تفسیر

    [6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوبارہ حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب کی پیروی کی ترغیب دی اور فرمایا: ﴿ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ’’تحقیق تمھارے لیے انھی لوگوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔‘‘ اور ہر شخص کے لیے اس نمونہ کی پیروی کرنا آسان نہیں، یہ صرف اسی شخص کے لیے آسان ہے ﴿ لِّ٘مَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ﴾ ’’جو اللہ (سے ملنے) اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔‘‘ کیونکہ ایمان اور اجر و ثواب کی امید، بندے کے لیے ہر مشکل کام کو آسان اور ہر کثیر کو اس کے سامنے قلیل کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا کی موجب بنتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کا بے انتہا محتاج اور ضرورت مند سمجھتا ہے۔ ﴿ وَمَنْ یَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا سے منہ موڑتا ہے، وہ خود اپنے سوا کسی کو نقصان نہیں دیتا اور وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی بے پروا ہے۔‘‘ جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق کا مالک ہے اور کسی بھی پہلو سے وہ مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ ﴿ الْحَمِیْدُ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں قابل ستائش ہے اور ان تمام امور میں اس کی ستائش کی جاتی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 6 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتصفّالصف

غلطی کی اطلاع دیں

مزید