الصف

صفّ

14 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 13

    وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا ۖ نَصْرٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

    اور تمہیں ایک دوسری (نعمت) بھی دے گا جسے تم چاہتے ہو وه اللہ کی مدد اور جلد فتح یابی ہے[1] ، ایمان والوں کو خوشخبری دے دو.[2]

    حواشی

    [1] یعنی جب تم اس کی راہ میں لڑو گے اور اس کے دین کی مدد کرو گے، تو وہ بھی تمہیں فتح ونصرت سے نوازے گا۔ - «إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ» (سورة محمد: 7) «وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» (الحج: 40) آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں اسے فتح قریب، قرار دیا۔ اور اس سے مراد فتح مکہ ہے اور بعض نے فارس وروم کی عظیم الشان سلطنتوں پر مسلمانوں کے غلبے کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ جو خلافت راشدہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوا۔ [2] جنت کی بھی، مرنے کے بعد۔ اور فتح ونصرت کی بھی، دنیا میں۔ بشرطیکہ اہل ایمان ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہیں۔ «وَأَنْتُمُ الأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ» (آل عمران: 139) آگے اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنے دین کی نصرت کی مزید ترغیب دے رہا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 13 کی تفسیر

    [13] رہا اس تجارت کا دنیوی اجر و ثواب، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے : ﴿ وَاُخْرٰؔى تُحِبُّوْنَهَا﴾ یعنی تمھیں ایک اور چیز حاصل ہو گی جسے تم پسند کرتے ہو، اور وہ ہے ﴿ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ دشمن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح و نصرت، جس سے عزت و فرحت حاصل ہوتی ہے ﴿ وَفَ٘تْحٌ قَ٘رِیْبٌ﴾ ’’اور جلد فتح یابی‘‘ جس سے اسلام کا دائرہ وسیع ہو گا اور وسیع رزق حاصل ہو گا، یہ مومن مجاہدوں کی جزا ہے۔ رہے وہ مومنین جو جہاد نہیں کر رہے، جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ فریضۂ جہاد ادا کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جہاد میں شریک نہ ہونے والے مومنوں کو بھی اپنے فضل و احسان سے مایوس نہیں کیا بلکہ فرمایا: ﴿ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ یعنی مومنوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی بشارت دے دو، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو تو نہیں پہنچ سکتے تاہم ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق ثواب ملے گا۔ جیسا کہ نبی اکرم e نے فرمایا: ’’بلاشبہ جنت میں سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللہ، حدیث: 2790)

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 13 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتجمعہالجمعة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید