الصف

صفّ

14 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 14

    يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوٓا۟ أَنصَارَ ٱللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّـۧنَ مَنْ أَنصَارِىٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ۖ فَـَٔامَنَت طَّآئِفَةٌ مِّنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَكَفَرَت طَّآئِفَةٌ ۖ فَأَيَّدْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ عَلَىٰ عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا۟ ظَـٰهِرِينَ

    اے ایمان والو! تم اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ[1] ۔ جس طرح حضرت مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ نے حواریوں سے فرمایا کہ کون ہے جو اللہ کی راه میں میرا مددگار بنے[2]؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کی راه میں مددگار ہیں، پس بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت تو ایمان ﻻئی اور ایک جماعت نے کفر کیا[3] تو ہم نے مومنوں کی انکے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی پس وه غالب آ گئے.[4]

    حواشی

    [1] تمام حالتوں میں، اپنے اقوال وافعال کے ذریعے سے بھی اور جان ومال کے ذریعے سے بھی۔ جب بھی، جس وقت بھی اور جس حالت میں بھی تمہیں اللہ اور اس کا رسول اپنے دین کے لیے پکارﮮ تم فوراً ان کی پکار پر لبیک کہو، جس طرح حواریین نے عیسیٰ (عليه السلام) کی پکار پر لبیک کہا۔ [2] یعنی ہم آپ (صلى الله عليه وسلم) کے اس دین کی دعوت وتبلیغ میں مددگار ہیں جس کی نشرواشاعت کا حکم اللہ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو دیا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ایام حج میں فرماتے (کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا سکوں، اس لیے کہ قریش مجھے فریضۂ رسالت ادا نہیں کرنے دیتے)۔ حتیٰ کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اس پکار پر مدینے کے اوس اور خزرج نے لبیک کہا، آپ (صلى الله عليه وسلم) کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت کی اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی مدد کا وعدہ کیا۔ نیز آپ (صلى الله عليه وسلم) کو یہ پیشکش کی کہ اگر آپ (صلى الله عليه وسلم) ہجرت کرکے مدینہ آجائیں تو آپ (صلى الله عليه وسلم) کی حفاظت کی ذمے داری ہم قبول کرتے ہیں۔ چنانچہ جب آپ (صلى الله عليه وسلم) ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے گئے تو وعدے کے مطابق انہوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کے تمام ساتھیوں کی پوری مدد کی۔ حتیٰ کہ اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) نے ان کا نام ہی (انصار) رکھ دیا اور اب یہ ان کا علم بن گیا۔ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَأَرْضَاهُمْ (ابن کثیر) [3] یہ یہود تھے جنہوں نے نبوت عیسیٰ (عليه السلام) ہی کا انکار نہیں کیا بلکہ ان پر اور ان کی ماں پر بہتان تراشی کی۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ اختلاف وتفرق اس وقت ہوا، جب حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ ایک نے کہا کہ عیسیٰ (عليه السلام) کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہی زمین پر ظہور فرمایا تھا، اب وہ پھر آسمان پر چلا گیا ہے، یہ فرقہ یعقوبیہ کہلاتا ہے۔ نسطوریہ فرقے نے کہا کہ وہ ابن اللہ تھے، باپ نے بیٹے کو آسمان پر بلا لیا ہے۔ تیسرے فرقے نے کہا وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے، یہی فرقہ صحیح تھا۔ [4] یعنی نبی (صلى الله عليه وسلم) کو مبعوث فرما کر ہم نے اسی آخری جماعت کی، دوسرے باطل گروہوں کے مقابلے میں مدد کی۔ چنانچہ یہ صحیح عقیدے کی حامل جماعت نبی (صلى الله عليه وسلم) پر بھی ایمان لے آئی اور یوں ہم نے ان کو دلائل کے لحاظ سے بھی سب کافروں پر غلبہ عطا فرمایا اور قوت وسلطنت کے اعتبار سے بھی۔ اس غلبے کا آخری ظہور اس وقت پھر ہوگا، جب قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کا دوبارہ نزول ہوگا، جیسا کہ اس نزول اور غلبے کی صراحت احادیث صحیحہ میں تواتر کے ساتھ منقول ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 14 کی تفسیر

    [14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ﴾ اے ایمان والو! تم اپنے (اقوال و افعال کے ذریعے سے) اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ ۔‘‘ اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا جائے، دوسروں پر اس کے نفاذ کی خواہش رکھی جائے اور جو کوئی دین سے عناد رکھے اور اس کے خلاف جان و مال کے ذریعے سے جنگ کرے اور جو شخص باطل کی اس چیز کے ذریعے سے مدد کرے جس کو وہ اپنے زعم میں علم سمجھتا ہے، حق کی دلیل کا ابطال کرکے، اس پر حجت قائم کر کے اور لوگوں کو اس سے ڈرا کر اس کو ٹھکرائے تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے۔کتاب اللہ اور سنت رسول اللہe کی تعلیم حاصل کرنا، اس کی ترغیب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، اللہ کے دین کی مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان نیک لوگوں کی پیروی کرنے پر ابھارا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، فرمایا: ﴿ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ۠ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ﴾ عیسیٰu نے اپنے حواریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’کون ہے جو میری معاونت کرے، اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لیے کون ہے جو میرا ساتھ دے، کون ہے وہ جو اس جگہ داخل ہو جہاں میں داخل ہوں اور کون ہے وہ جو اس جگہ سے نکلے جہاں سے میں نکلوں؟‘‘ حواری آگے بڑھے اور کہنے لگے: ﴿ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم اللہ کے مدد گار ہیں۔‘‘ حضرت عیسیٰ uاور آپ کے ساتھ جو حواری تھے، سب نصرت دین کی راہ پر چل پڑے ﴿ فَاٰمَنَتْ طَّآىِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ﴾ پس حضرت عیسیٰu اور آپ کے حواریوں کی دعوت کے سبب سے بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا ﴿ وَكَفَرَتْ طَّآىِٕفَةٌ﴾ اور ان میں سے ایک گروہ نے انکار کر دیا اور ان کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس اہل ایمان نے کفار کے ساتھ جہاد کیا۔ ﴿ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ﴾ یعنی ہم نے اہلِ ايمان کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت بخشی، ان کو دشمنوں پر فتح و نصرت سے بہرہ مند کیا ﴿فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ﴾ تو وہ ان پر غالب آ گئے، پس اے امت محمد! تم بھی اللہ تعالیٰ کے مددگار، اس کے دین کی دعوت دینے والے بن جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کی مدد کی تھی اور تمھیں تمھارے دشمن پر غالب کرے گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 14 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتجمعہالجمعة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید