الصف

صفّ

14 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 6

    وَإِذْ قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ يَـٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُولٍ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِى ٱسْمُهُۥٓ أَحْمَدُ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ قَالُوا۟ هَـٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ

    اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا اے (میری قوم)، بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے واﻻ ہوں[1] اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے واﻻ ہوں جنکا نام احمد ہے[2]۔ پھر جب وه ان کے پاس کھلی دلیلیں ﻻئے تو یہ کہنے لگے، یہ تو کھلا جادو ہے.[3]

    حواشی

    [1] حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کا قصہ اس لیے بیان فرمایا کہ بنی اسرائیل نے جس طرح حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کا بھی انکار کیا، اس میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی دی جارہی ہے کہ یہ یہود آپ (صلى الله عليه وسلم) ہی کے ساتھ اس طرح نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کی تو ساری تاریخ ہی انبیا علیہم السلام کی تکذیب سے بھری پڑی ہے۔ تورات کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ میں جو دعوت دے رہا ہوں، وہ وہی ہے جو تورات کی بھی دعوت ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے، کہ جو پیغمبر مجھ سے پہلے تورات لے کر آئے اور اب میں انجیل لے کر آیا ہوں، ہم دونوں کا اصل ماخذ ایک ہی ہے۔ اس لیے جس طرح تم موسیٰ وہارون اور داود وسلیمان علیہم السلام پر ایمان لائے ، مجھ پر بھی ایمان لاؤ، اس لیے کہ میں تورات کی تصدیق کر رہا ہوں نہ کہ اس کی تردید وتکذیب۔ [2] یہ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) نے اپنے بعد آنے والے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی خوش خبری سنائی۔ چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا : «أَنَا دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ وَبَشَارَةُ عِيسَى» (أيسر التفاسير) (میں اپنے باپ ابراہیم (عليه السلام) کی دعا اور عیسیٰ (عليه السلام) کی بشارت کا مصداق ہوں)۔ احمد، یہ فاعل سے اگر مبالغے کا صیغہ ہو تو معنی ہوں گے، دوسرے تمام لوگوں سے اللہ کی زیادہ حمد کرنے والا۔ اور اگر یہ مفعول سے ہو تو معنی ہوں گے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی خوبیوں اور کمالات کی وجہ سے جتنی تعریف آپ (صلى الله عليه وسلم) کی کی گئی، اتنی کسی کی بھی نہیں کی گئی۔ (فتح القدیر)۔ [3] یعنی حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے پیش کردہ معجزات کو جادو سے تعبیر کیا، جس طرح گزشتہ قومیں بھی اپنے پیغمبروں کو اسی طرح کہتی رہی ہیں۔ بعض نے اس سے مراد نبی (صلى الله عليه وسلم) لیے ہیں اور قَالُوا کا فاعل کفار مکہ کو بنایا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 6 کی تفسیر

    [6] اللہ تبارک و تعالیٰ متقدمین بنی اسرائیل کے عناد کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جن کو حضرت عیسیٰ u نے دعوت دی اور فرمایا: ﴿ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ﴾ یعنی اے بنی اسرائیل! مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمھیں بھلائی کی طرف بلاؤ ں اور برائی سے روکوں، اللہ تعالیٰ نے ظاہری دلائل و براہین کے ذریعے سے میری تائید فرمائی ہے، جو میری صداقت پر دلالت کرتی ہیں نیز اس بات پر دلالت کرتی ہیں ﴿ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ﴾ کہ میں اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ یعنی میں وہی کچھ لے کر آیا ہوں جو موسیٰ u تورات اور آسمانی شریعت میں سے لے کر آئے تھے۔ اگر میں نبوت کا ایسا مدعی ہوتا، جو اپنے دعوائے نبوت میں سچا نہیں ہوتا، تو میں ایسی چیز لاتا جسے انبیاء و مرسلین لے کر نہیں آئے۔ میرا اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ تورات نے میری بعثت کی خبر اور میرے آنے کی خوشخبری دی ہے اور مجھے تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ﴿ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ﴾ ’’اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔‘‘ اور وہ ہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الہاشمی(e) پس حضرت عیسیٰ u تمام انبیائے کرام کی طرح سابق گزرے ہوئے نبی کی تصدیق کرتے اور بعد میں آنے والے نبی کی بشارت دیتے ہیں، بخلاف نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کے جو انبیاء و مرسلین سے سخت منافقت رکھتے ہیں اور اوصاف و اخلاق اور امر و نہی میں ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمْ﴾ پس جب ان کے پاس محمد e مبعوث ہو کر تشریف لے آئے جن کی عیسیٰu نے بشارت دی تھی ﴿ بِالْبَیِّنٰتِ﴾ واضح دلائل کے ساتھ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کی بشارت دی گئی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں ﴿ قَالُوْا﴾تو انھوں نے حق سے عناد رکھتے اور اسے جھٹلاتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ﴾ ’’یہ صریح جادو ہے۔‘‘ اور یہ عجیب ترین بات ہے کہ وہ رسول جس نے اپنی رسالت کو پوری طرح واضح کر دیا ہے، اور وہ سورج سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے، اسے جادوگر قرار دیا جائے کہ جس کا جادو واضح ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی اور خذلان ہے؟ اور اس افترا پردازی سے زیادہ بلیغ کوئی اور افترا پردازی ہے؟ جس نے اس حقیقت کی نفی کر دی جو آپ کی رسالت میں سے معلوم ہے اور اس چیز کا اثبات کر دیا جس سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 6 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتجمعہالجمعة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید