الجمعة

جمعہ

11 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 9

    يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نُودِىَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوْمِ ٱلْجُمُعَةِ فَٱسْعَوْا۟ إِلَىٰ ذِكْرِ ٱللَّهِ وَذَرُوا۟ ٱلْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

    اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو[1] ۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو.

    حواشی

    [1] یہ اذان کس طرح دی جائے اس کے الفاظ کیا ہوں؟ یہ قرآن میں کہیں نہیں ہے۔ البتہ حدیث میں ہے جس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن ہے نہ اس پر عمل کرنا ہی۔ جمعہ کو ، جمعہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ ہر چیز کی پیدائش سے فارغ ہوگیا تھا، یوں گویا تمام مخلوقات کا اس دن اجتماع ہوگیا، یا نماز کے لیے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اس بنا پر کہتے ہیں۔ (فتح القدیر) فَاسْعَوْا کا مطلب یہ نہیں کہ دوڑ کر آؤ، بلکہ یہ ہےکہ اذان کے فوراً بعد آجاؤ اور کاروبار بند کر دو۔ کیونکہ نماز کے لیے دوڑ کر آنا ممنوع ہے، وقار اور سکینت کے ساتھ آنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (صحيح بخاري، كتاب الأذان وصحيح مسلم، كتاب المساجد) بعض حضرات نے ذَرُوا الْبَيْعَ (خرید وفروخت چھوڑ دو) سے استدلال کیا ہے کہ جمعہ صرف شہروں میں فرض ہے ، اہل دیہات پر نہیں۔ کیونکہ کاروبار اور خرید وفروخت شہروں میں ہی ہوتی ہے، دیہاتوں میں نہیں۔ حالانکہ اول تو دنیا میں کوئی گاؤں ایسا نہیں جہاں خرید وفروخت اور کاروبار نہ ہوتا ہو، اس لیے یہ دعویٰ ہی خلاف واقعہ ہے۔ دوسرا بیع اور کاروبار سے مطلب، دنیا کے مشاغل ہیں، وہ جیسے بھی اور جس قسم کے بھی ہوں۔ اذان جمعہ کے بعد انہیں ترک کر دیا جائے۔ کیا اہل دیہات کے مشاغل دنیا نہیں ہوتے؟ کیا کھیتی باڑی، کاروبار اور مشاغل دنیا سے مختلف چیز ہے؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 9 کی تفسیر

    [9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو جمعہ کی نماز میں شریک ہونے، اور اس کے لیے جب اذان دی جائے تو اس کی طرف جلدی کرنے اور کوشاں ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہاں ’’سعی‘‘ سے مراد جلدی کرنا ، اہتمام کرنا اور جمعہ کی نماز کو سب سے اہم کام قرار دینا ہے، اس سے مراد دوڑنا نہیں جس کو نماز کے لیے جاتے وقت ممنوع کیا گیا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَذَرُوا الْ٘بَیْعَ﴾ یعنی جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان دے دی جائے تو خرید و فروخت چھوڑ دو اور نماز کے لیے چل پڑو۔ ﴿ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ ﴾ کیونکہ جمعہ کی نماز تمھارے خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے اور تمھارے فرض نماز کو ضائع کرنے سے بہتر ہے، جوتمام فرائض سے زیادہ مؤکد ہے۔ ﴿ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ اگر تم اس حقیقت کو جانتے ہو کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے اور جو کوئی دنیا کو دین پر ترجیح دیتا ہے وہ حقیقی خسارے میں پڑتا ہے جبکہ وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ نفع حاصل کر رہا ہے ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 9 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمنافقونالمنافقون

غلطی کی اطلاع دیں

مزید