المنافقون

منافقون

11 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 1

    إِذَا جَآءَكَ ٱلْمُنَـٰفِقُونَ قَالُوا۟ نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ وَٱللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ لَكَـٰذِبُونَ

    تیرے پاس جب منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم اس بات کے گواه ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں[1] ، اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اس کے رسول ہیں[2]۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں.[3]

    حواشی

    [1] منافقین سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہیں۔ یہ جب نبی (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوتے تو قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ [2] یہ جملہ معترضہ ہے جو مضمون ماقبل کی تاکید کے لیے ہے جس کا اظہار منافقین بطور منافق کے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو ویسے ہی زبان سے کہتے ہیں، ان کے دل اس یقین سے خالی ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ [3] اس بات میں کہ وہ دل سے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں۔ یعنی دل سے گواہی نہیں دیتے صرف زبان سے دھوکہ دینے کے لیے اظہار کرتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 کی تفسیر

    [1] جب نبی ٔ کریم e مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الْ٘مُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْ٘مُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 1 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتغابنالتغابن

غلطی کی اطلاع دیں

مزید