المنافقون

منافقون

11 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 10

    وَأَنفِقُوا۟ مِن مَّا رَزَقْنَـٰكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَآ أَخَّرْتَنِىٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ

    اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں[1] دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں.[2]

    حواشی

    [1] خرچ کرنے سے مراد زکٰوۃ کی ادائیگی اور دیگر امور خیر میں خرچ کرنا ہے۔ [2] اس سے معلوم ہوا کہ زکٰوۃ کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ میں اور اسی طرح اگر حج کی استطاعت ہو تو اس کی ادائیگی میں قطعاً تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ موت کا کوئی پتہ نہیں کس وقت آجائے؟ اور یہ فرائض اس کے ذمے رہ جائیں کیونکہ موت کے وقت آرزو کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 10 کی تفسیر

    [10] ﴿ وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے تمھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرو۔‘‘ اس حکم میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ، کفارات، اہل و عیال اور غلاموں وغیرہ کا نان و نفقہ اور تمام نفقات مستحبہ ، مثلاً: تمام مصالح میں مال خرچ کرنا شامل ہیں اور فرمایا: ﴿ مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ﴾ یہ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے نفاق کا مکلف نہیں بنایا جو ان کے لیے نہایت مشکل ہو اور ان پر شاق گزرے، بلکہ ان کو اس رزق میں سے کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکالنے کا حکم دیا ہے، جو اسی نے ان کو عطا اور میسر کیا اور اس کے اسباب مہیا کیے۔ پس انھیں چاہیے کہ وہ اپنے نادار بھائیوں کی مالی مدد کر کے اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے ان کو رزق عطا کیا ہے اور موت سے پہلے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کریں۔ موت جب آ جائے گی تو بندے کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ ذرہ بھر بھی بھلائی کر سکے، اس لیے فرمایا :﴿ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور پھر وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی اس کوتاہی پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے جو اس وقت واقع ہوئی جب اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ممکن تھا اور واپس لوٹائے جانے کی التجا کرتے ہوئے، حالانکہ یہ محال ہو گا، کہے گا: ﴿ رَبِّ لَوْلَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَ٘رِیْبٍ﴾ ’’اے میرے رب! تو نے مجھے تھو ڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی؟‘‘ تاکہ جو میں نے کوتاہی کی ہے اس کا تدارک کر سکوں۔ ﴿ فَاَصَّدَّقَ﴾ پس اپنے مال میں سے صدقہ کروں جس کے ذریعے سے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤ ں اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہروں ﴿ وَ اَكُ٘نْ مِّنَ الصّٰؔلِحِیْنَ﴾ اور تمام مامورات کو ادا کر کے اور تمام منہیات سے اجتناب کر کے صالحین میں شامل ہو سکوں اور اس میں حج وغیرہ بھی شامل ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 10 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتغابنالتغابن

غلطی کی اطلاع دیں

مزید