المنافقون

منافقون

11 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 9

    يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَٰلُكُمْ وَلَآ أَوْلَـٰدُكُمْ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَـٰسِرُونَ

    اے مسلمانو! تمہارے مال اور تمہاری اوﻻد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں[1] ۔ اور جو ایسا کریں وه بڑے ہی زیاں کار لوگ ہیں.

    حواشی

    [1] یعنی مال اور اولاد کی محبت تم پر اتنی غالب نہ آجائے کہ تم اللہ کے بتلائے ہوئے احکام وفرائض سے غافل ہو جاؤ اور اللہ کی قائم کردہ حلال وحرام کی حدوں کی پروا نہ کرو۔ منافقین کے ذکر کے فوراً بعد اس تنبیہ کا مقصد یہ ہے کہ یہ منافقین کا کردار ہے جو انسان کو خسارے میں ڈالنے والا ہے۔ اہل ایمان کا کرداراس کے برعکس ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کو یاد رکھتے ہیں، یعنی اس کے احکام وفرائض کی پابندی اور حلال وحرام کے درمیان تمیز کرتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 9 کی تفسیر

    [9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس میں نفع، فوز و فلاح اور بے شمار بھلائیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں مال اور اولاد کی محبت میں مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے سے روکا ہے کیونکہ مال اور اولاد کی محبت اکثر نفوس کی جبلت ہے، پس وہ مال اور اولاد کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس میں بہت بڑا خسارہ ہے اس لیے فرمایا :﴿ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ﴾ جسے اس کے مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیتے ہیں ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰؔسِرُوْنَ﴾ ’’تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔‘‘ ابدی سعادت اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے بارے میں خسارے میں رہنے والے ہیں کیونکہ انھوں نے ہمیشہ رہنے والی چیز پر فانی چیز کو ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُؔكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ﴾ (التغابن:64؍15) ’’بے شک تمھارے مال ا ور تمھاری اولاد آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 9 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتغابنالتغابن

غلطی کی اطلاع دیں

مزید