التغابن

تغابن

18 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 16

    فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ مَا ٱسْتَطَعْتُمْ وَٱسْمَعُوا۟ وَأَطِيعُوا۟ وَأَنفِقُوا۟ خَيْرًا لِّأَنفُسِكُمْ ۗ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِۦ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

    پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ[1] اور اللہ کی راه میں خیرات کرتے رہو جو تمہارے لیے بہتر ہے[2] اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا جائے وہی کامیاب ہے.

    حواشی

    [1] یعنی اللہ اور رسول (صلى الله عليه وسلم) کی باتوں کو توجہ اور غور سے سنو اور ان پر عمل کرو۔ اس لیے کہ صرف سن لینا بے فائدہ ہے، جب تک عمل نہ ہو۔ [2] خَيْرًا أَيْ: إِنْفَاقًا خَيْرًا، يَكُن الإِنْفَاقُ خَيْرًا انفاق عام ہے، صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں کو شامل ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 16 کی تفسیر

    [16] اللہ تبارک و تعالیٰ تقویٰ کا حکم دیتا ہے جو اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنے کا نام ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو استطاعت اور قدرت سے مقید رکھا ہے۔یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ واجب جس کو ادا کرنے سے بندہ عاجز ہو، اس سے ساقط ہو جاتا ہے اگر کچھ امور پر عمل کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور کچھ پر قدرت نہیں رکھتا تو وہ صرف انھی امور پر عمل کرے گا جن پر عمل کرنے کی وہ قدرت رکھتا ہے اور جن پر عمل کرنے سے عاجز ہے، وہ اس سے ساقط ہو جائیں گے۔ جیسا کہ نبی اکرم e نے فرمایا: ’إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ‘ ’’جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو جتنی تم میں استطاعت ہے اس کے مطابق اس پر عمل کرو۔‘‘ (صحیح البخاري، الاعتصام، باب الاقتداء بسنن رسول اللہﷺ، ح: 2788 و صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر، ح: 1337 و مسند أحمد: 428/2 واللفظ لہ)اس شرعی قاعدہ میں اتنی زیادہ فروع داخل ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسْمَعُوْا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ جو تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس نے جو احکام تمھارے لیے مشروع کیے، ان کو سنو، ان کو جان لو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کر دو ﴿ وَاَطِیْعُوْا﴾ اور اپنے تمام معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ﴿ وَاَنْفِقُوْا﴾ اور شرعی نفقات واجبہ اور مستحبہ خرچ کرو، تمھارا یہ فعل ﴿ خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ﴾ دنیا و آخرت میں تمھارے لیے بہتر ہو گا کیونکہ بھلائی تمام تر اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کرنے، اس کے نصائح کو قبول کرنے اور اس کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں ہے اور شر تمام تر اس کی مخالفت کرنے میں ہے۔ مگر وہاں ایک اور آفت بھی ہے جو بہت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مامور بہ نفقات سے روکتی ہے اور وہ ہے بخل جو اکثر نفوس کی جبلت ہے۔ نفس مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں، اس کی موجودگی کو پسند کرتے ہیں اور مال کے ہاتھ سے نکلنے کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنْ یُّوْقَ شُ٘حَّ نَفْسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچالیا گیا۔‘‘ یعنی اللہ نے اس کو مال خرچ کرنے کی توفیق عطا کر دی جو اس کے لیے فائدہ مند ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾ ’’تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے مطلوب کو پا لیا اور ڈرائے جانے والے امور سے نجات پائی۔ بلکہ شاید یہ ہر اس امر کو شامل ہے، جس کا بندے کو حکم دیا گیا اور اس سے اس کو روکا گیا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا نفس بخیل ہے تو اس حکم کی اطاعت نہیں کرے گا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور مامور بہ نفقات کو ہاتھ سے نہیں نکالے گا تو اس نے فلاح نہیں پائی بلکہ دنیا و آخرت میں خسارے میں رہا۔ اگر اس کا نفس سخی ہے، اللہ تعالیٰ کی شریعت پر انشراح کے ساتھ مطمئن اور اس کی رضا کا طلب گار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس فعل کے درمیان جس کا وہ مکلف کیا گیا ہے، اس فعل کے علم ، اللہ تعالیٰ کی رضا کی معرفت اور اس چیز کی بصیرت کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر رہا ہے، اس طریقے سے فلاح پائے گا اور تمام تر کامیابی سے بہرہ مند ہو گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 16 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتطلاقالطلاق

غلطی کی اطلاع دیں

مزید