اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو[1] تو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انہیں طلاق دو[2] اور عدت کا حساب رکھو[3]، اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو، نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو[4] اور نہ وه (خود) نکلیں[5] ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کھلی برائی کر بیٹھیں[6]، یہ اللہ کی مقرر کرده حدیں ہیں، جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپر ﻇلم کیا[7]، تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے.[8]
حواشی
[1] نبی (صلى الله عليه وسلم) سے خطاب آپ کے شرف ومرتبت کی وجہ سے ہے، ورنہ حکم تو امت کو دیا جارہا ہے۔ یا آپ ہی کو بطور خاص خطاب ہے اور جمع کا صیغہ بطور تعظیم کے ہے اور امت کے لیے آپ (صلى الله عليه وسلم) کا اسوہ ہی کافی ہے۔ طَلَّقْتُمُ کا مطلب ہے جب طلاق دینے کا پختہ ارادہ کر لو۔
[2] اس میں طلاق دینے کا طریقہ اور وقت بتلایا ہے لِعِدَّتِهِنَّ میں لام توقیت کے لیے ہے۔ یعنی لأوَّلِ یا لاسْتِقْبَالِ عِدَّتِهِنَّ (عدت کے آغاز میں) طلاق دو۔ یعنی جب عورت حیض سے پاک ہو جائے تو اس سے ہم بستری کیے بغیر طلاق دو۔ حالت طہر اسکی عدت کا آغاز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حیض کی حالت میں یا طہر میں ہم بستری کرنے کے بعد طلاق دینا غلط طریقہ ہے اس کو فقہا طلاق بدعی سے اور پہلے (صحیح) طریقے کو طلاق سنت سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ حضرت ابن عمر (رضي الله عنه) ما نے حیض کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) غضبناک ہوئے اور انہیں اس سے رجوع کرنے کے ساتھ حکم دیا کہ حالت طہر میں طلاق دینا، اور اس کے لیے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اسی آیت سے استدلال فرمایا۔ (صحيح بخاري، كتاب الطلاق) تاہم حیض میں دی گئی طلاق بھی ، باوجود بدعی ہونے کے واقع ہو جائے گی۔ محدثین اور جمہور علما اسی بات کے قائل ہیں۔ البتہ امام ابن قیم اور امام ابن تیمیہ طلاق بدعی کے وقوع کے قائل نہیں ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیئے نيل الأوطار، كتاب الطلاق، باب النهي عن الطلاق في الحيض وفي الطهر اور دیگر شروحات حدیث)۔
[3] یعنی اس کی ابتدا اور انتہا کا خیال رکھو، تاکہ عورت اس کے بعد نکاح ثانی کرسکے، یا اگر تم ہی رجوع کرنا چاہو، (پہلی اور دوسری طلاق کی صورت میں) تو عدت کے اندر رجوع کرسکو۔
[4] یعنی طلاق دیتے ہی عورت کو اپنے گھر سے مت نکالو، بلکہ عدت تک اسے گھر میں ہی رہنے دو، اور اس وقت تک رہائش اور نان ونفقہ تمہاری ذمے داری ہے۔
[5] یعنی عدت کے دوران خود عورت بھی گھر سے باہر نکلنے سے احتراز کرے، الایہ کہ کوئی بہت ہی ضروری معاملہ ہو۔
[6] یعنی بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھے یا بدزبانی اور بداخلاقی کا مظاہرہ کرے جس سے گھر والوں کو تکلیف ہو۔ دونوں صورتوں میں اس کا اخراج جائز ہوگا۔
[7] یعنی احکام مذکورہ، اللہ کی حدیں ہیں، جن سے تجاوز خود اپنے آپ پر ہی ظلم کرنا ہے، کیونکہ اس کے دینی اور دنیوی نقصانات خود تجاوز کرنے والے کو ہی بھگتنے پڑیں گے۔
[8] یعنی مرد کے دل میں مطلقہ عورت کی رغبت پیدا کر دے اور وہ رجوع کرنے پر آمادہ ہو جائے، جیسا کہ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد خاوند کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔ اسی لیےبعض مفسرین کی رائے ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک طلاق دینے کی تلقین اور بیک وقت تین طلاقیں دینے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ اگر وہ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دے (اور شریعت اسے جائز قرار دے کر نافذ بھی کر دے) تو پھر یہ کہنا بےفائدہ ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے۔ (فتح القدیر) اسی سے امام احمد اور دیگر بعض علما نے یہ استدلال بھی کیا ہے کہ رہائش اور نفقے کی جو تاکید کی گئی ہے وہ ان عورتوں کے لیے ہے جن کو ان کے خاوندوں نے پہلی یا دوسری طلاق دی ہو۔ کیونکہ ان میں خاوند کے رجوع کا حق برقرار رہتا ہے۔ اور جس عورت کو مختلف اوقات میں دو طلاقیں مل چکی ہوں تو تیسری طلاق اس کے لیے طلاق بتہ یا بائنہ ہے، اس کا سُكْنَى (رہائش) اور نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ اس کو فوراً خاوند کے مکان سے دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے گا، کیونکہ خاوند اب اس سے رجوع کرکے اسے اپنے گھر آباد نہیں کرسکتا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ۔ اس لیے اب اسے خاوند کے پاس رہنے کا اور اس سے نان ونفقہ وصول کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس کی تائید حضرت فاطمہ بنت قیس (رضی الله عنها) کے اس واقعے سے ہوتی ہے کہ جب ان کے خاوند نے ان کو تیسری طلاق بھی دے دی اور اس کے بعد انھیں خاوند کے مکان سے نکلنے کے لیے کہا گیا تو وہ آمادہ نہیں ہوئی بالآخر معاملہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے پاس پہنچا تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے یہی فیصلہ فرمایا کہ ان کے لیے رہائش اور نفقہ نہیں ہے، انھیں فوراً کسی دوسری جگہ منتقل ہو جانا چاہیے۔ بلکہ بعض روایات میں صراحت بھی ہے، إِنَّمَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ؛ إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ رواه أحمد والنسائي۔ البتہ بعض روایات میں حاملہ عورت کے لیے بھی نفقہ اور رہائش کی صراحت ہے۔ (تفصیل اور حوالوں کے لیے دیکھئے: نيل الأوطار، باب ما جاء في نفقة المبتوتة وسكناها وباب النفقة والسكنى للمعتدة الرجعية) بعض لوگ ان روایات کو قرآن کے مذکورہ حکم ”لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ“ کے خلاف باور کرا کے ان کو رد کر دیتے ہیں جو صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن کا حکم اپنے گرد وپیش کے قرائن کے پیش نظر مطلقہ رجعیہ سے متعلق ہے۔ اور اگر اسے عام مان بھی لیا جائے تو یہ روایات اس کی مخصص ہیں یعنی قرآن کے عموم کو ان روایات نے مطلقہ رجعیہ کے لیے خاص کر دیا اور مطلقہ بائنہ کو اس عموم سے نکال دیا ہے۔
تفسیر سعدی (اردو)
آیات 1 کی تفسیر
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی e اور اہل ایمان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ﴿ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ﴾ ’’اے نبی! جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو۔‘‘ یعنی طلاق دینے کا ارادہ کرو۔ ﴿فَـــ﴾’’پس‘‘تم ان کو طلاق دینے کے لیے مشروع وجۂ طلاق تلاش کرو، جب طلاق کا سبب مل جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی رعایت رکھے بغیر طلاق دینے میں جلدی نہ کرو بلکہ ﴿ طَلِّقُوْهُنَّ۠ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ ’’انھیں ان عدت کے (آغاز) وقت میں طلاق دو۔‘‘ یعنی ان کو ان کی عدت کے لیے طلاق دو، وہ اس طرح کہ شوہر اپنی بیوی کو اس کے طاہر ہونے کی حالت میں، نیز اس طہر میں اس سے مجامعت کیے بغیر طلاق دے۔ پس یہی وہ طلاق ہے جس میں عدت واضح ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر اس نے اپنی بیوی کے حیض کی حالت میں طلاق دی تو وہ اس حیض کو شمار نہیں کرے گی جس کے دوران طلاق واقع ہوئی ہے تو اس سبب سے اس پر عدت کا عرصہ طویل ہو جائے گا۔
اس طرح اگر اس نے ایسے طہر میں طلاق دی ہو جس میں مجامعت کی گئی ہو تو اس طرح وہ حمل سے مامون نہ ہو گی، لہٰذا واضح نہ ہو گا کہ وہ کون سی عدت شمار کرےجبکہ اللہ تعالیٰ نے عدت شمار کرنے کا حکم دیا ہے ﴿وَ اَحْصُوا الْعِدَّۃَ﴾یعنی اسے حیض کے ذریعے سے شمار کیا جائے۔ اگر بیوی کو حیض آتا ہے تو عدت کو حیض سے ضبط کرنا ہے اور اگر اس کو حیض نہ آتا ہو اور وہ حاملہ بھی نہ ہو تو اس کی عدت مہینوں کے ساتھ شمار کی جائے گی۔ عدت کے شمار کرنے میں اللہ تعالیٰ، طلاق دینے والے شوہر اور بعد میں نکاح کرنے والے شوہر کے حقوق کی ادائیگی ہے، نیز اس میں مطلقہ کے نان و نفقہ وغیرہ کے حق کی ادائیگی ہے۔ پس جب عدت کو ضبط میں لایا جائے گا تو اس (کے حمل یا حیض وغیرہ) کا حال واضح طور پر معلوم ہو گا اور اس عدت پر مرتب ہونے والے حقوق معلوم ہوں گے۔عدت شمار کرنے کے اس حکم کا رخ شوہر اور بیوی کی طرف ہے، اگر بیوی مکلف ہے، ورنہ اس کے سر پرست کی طرف ہے۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ﴾ یعنی اپنے تمام امور میں تقویٰ اختیار کرو اور مطلقہ بیویوں کے حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ﴾ عدت کی مدت کے دوران ان کو اپنے گھروں سے نہ نکالو بلکہ مطلقہ اس گھر میں رہے جس گھر میں شوہر نے اس کو طلاق دی ہے ﴿ وَلَا یَخْرُجْنَ﴾ ’’اور نہ وہ خود نکلیں۔‘‘ یعنی مطلقہ بیویوں کے لیے ان گھروں سے نکلنا جائز نہیں ہے۔
مطلقہ کو گھر سے نکالنے کی ممانعت کا سبب یہ ہے کہ بیوی کو گھر فراہم کرنا شوہر پر واجب ہے تاکہ وہ اس گھر میں رہ کر عدت پوری کر سکے، جو شوہر کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔ اور مطلقہ بیوی کے خود گھر سے نکلنے کی ممانعت اس لیے ہے کہ اس کا گھر سے نکلنا شوہر کے حق کو ضائع کرنا اور اس کی عدم حفاظت ہے۔ طلاق یافتہ عورتوں کا خود گھر سے نکلنے یا ان کو نکالے جانے کا حکم عدت کو پورا ہونے تک باقی رہے گا۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنْ یَّ٘اْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ﴾ ’’مگر یہ کہ وہ صریح بے حیائی کریں۔‘‘ یعنی ان سے کوئی واضح طور پر قبیح فعل سرزد ہو جو ان کو گھر سے نکالنے کا موجب ہو اور مطلقہ کو گھر سے نہ نکالنے سے گھر والوں کو ضرر پہنچتا ہو، مثلاً: فحش اقوال و افعال کے ذریعے سے اذیت وغیرہ۔ اس صورت حال میں مطلقہ کو گھر سے نکال دینا، گھر والوں کے لیے جائز ہے، کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو گھر سے نکالنے کا سبب بنی ہے، حالانکہ گھر میں سکونت کی اجازت دینا مطلقہ کی دل جوئی اور اس کے ساتھ نرمی ہے اور اپنے آپ پر اس ضرر کا سبب وہ خود بنی ہے۔ یہ حکم اس مطلقہ کے لیے ہے جو رجعی طلاق کی عدت گزار رہی ہو۔ رہی وہ مطلقہ جس کی طلاق بائنہ ہو، اس کو سکونت فراہم کرنا واجب نہیں کیونکہ سکونت نان و نفقہ کے تابع ہے اور نان و نفقہ صرف اس مطلقہ کے لیے ہے جسے رجعی طلاق دی گئی ہو اور جس کو طلاق بائنہ دی گئی ہو، اس کے لیے نان و نفقہ نہیں ہے۔
﴿ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ﴾ ’’یہ اللہ کی حدیں ہیں۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر کے مشروع کیا ہے اور ان حدود کا التزام کرنے اور ان پر ٹھہرنے کا ان کو حکم دیا ہے ﴿ وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ﴾ ’’اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے۔‘‘ وہ اس طرح کہ وہ ان مقرر کردہ حدود پر نہ ٹھہرے بلکہ ان حدود سے تجاوز یا کوتاہی کرے ﴿ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ﴾ ’’تو یقیناً اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا حق کم کیا اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی اتباع میں سے، جن میں دنیا و آخرت کی اصلاح ہے، اپنے حصے کو ضائع کیا۔ ﴿ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا﴾ ’’تجھے کیا معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی سبیل پیدا کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عظیم حکمتوں کی بنا پر طلاق کو مشروع کر کے، اس کو عدت کے ذریعے سے محدود کیا ہے۔ان حکمتوں میں سے چند درج ذیل ہیں:
(۱) عدت کی حکمت میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ طلاق دینے والے کے دل میں رحمت اور مودت پیدا کر دے اور طلاق دینے والا اس سے رجوع کر لے اور نئے سرے سے اس کے ساتھ رہنا سہنا شروع کر دے۔ یہ چیز ( یعنی مطلقہ سے رجوع کرنا) عدت کی مدت کی معرفت ہی سے ممکن ہے۔
(۲) ہو سکتا ہے شوہر نے بیوی کی طرف سے کسی سبب کی بنا پر اس کو طلاق دی ہو اور عدت کی مدت میں وہ سبب دور ہو جائے تو وہ اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کر لے کیونکہ طلاق کا سبب ختم ہو گیا ہے۔
(۳) ان حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ عدت کی مدت کے دوران اس خاوند کے حمل سے مطلقہ کے رحم کی براء ت معلوم ہو جائے گی۔