الطلاق

طلاق

12 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 2

    فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا۟ ذَوَىْ عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُوا۟ ٱلشَّهَـٰدَةَ لِلَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ ۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّهُۥ مَخْرَجًا

    پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعده کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں الگ کر دو[1] اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواه کر لو[2] اور اللہ کی رضامندی کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دو[3]۔ یہی ہے وه جس کی نصیحت اسے کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے.[4]

    حواشی

    [1] مطلقہ مدخولہ کی عدت تین حیض ہے۔ اگر رجوع کرنا مقصود ہو تو عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے رجوع کر لو۔ بصورت دیگر انہیں معروف کے مطابق اپنے سے جدا کر دو۔ [2] اس رجعت اور بعض کے نزدیک طلاق پر گواہ کرلو۔ یہ امر وجوب کے لیے نہیں، استحباب کے لیے ہے۔ یعنی گواہ بنا لینا بہتر ہے تاہم ضروری نہیں۔ [3] یہ تاکید گواہوں کو ہے کہ وہ کسی کی رو رعایت اور لالچ کے بغیر صحیح صحیح گواہی دیں۔ [4] یعنی شدائد اور آزمائشوں سے نکلنے کی سبیل پیدا فرما دیتا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 2 کی تفسیر

    [2] ﴿ فَاِذَا بَلَ٘غْنَ اَجَلَهُنَّ﴾ یعنی جب طلاق یافتہ عورتیں عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں کیونکہ اگر انھوں نے عدت پوری کر لی تو شوہر کے پاس مطلقہ کو روک رکھنے یا جدا کر دینے کا اختیار نہیں رہتا۔ ﴿ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ﴾ یعنی ضرر پہنچانے کے لیے یا برائی اور محض محبوس رکھنے کے ارادے سے نہیں بلکہ حسن معاشرت اور صحبت جمیلہ کے طور پر ان کو روک لو، کیونکہ برائی اور محبوس رکھنے کے ارادے سے مطلقہ کو روکے رکھنا جائز نہیں۔ ﴿ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ﴾ یعنی اس طرح سے جدا کرنا کہ اس میں کوئی محذور امر نہ ہو، باہم گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے بغیر اور نہ مطلقہ کے مال میں سے کچھ لینے ہی کے لیے اس پر کوئی سختی ہو۔ ﴿ وَّاَشْهِدُوْا﴾ اور اس کی طلاق اور رجوع پر گواہ بنا لو ﴿ ذَوَیْ عَدْلٍ مِّؔنْكُمْ﴾ اپنے (مسلمانوں) میں سے دو عادل مردوں کو، کیونکہ مذکورہ گواہی میں مخاصمت کا اور ان دونوں کی طرف سے ایسے امور کے کتمان کا سدباب ہے جن کو بیان کرنا لازم ہے ﴿ وَاَ٘قِیْمُوا﴾ اے گواہو! ٹھیک ٹھیک ادا کرو۔ ﴿ الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ﴾’’گواہی اللہ کے لیے۔‘‘ یعنی کسی کمی بیشی کے بغیر گواہی کو اسی طرح ادا کرو جس طرح کہ وہ حقیقت میں ہے اور گواہی دینے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو اور گواہی میں کسی رشتہ دار کی، اس کی رشتہ داری اور کسی دوست کی، اس کی محبت کی وجہ سے رعایت نہ رکھو۔﴿ ذٰلِكُمْ﴾ ’’یہ‘‘ جو تمھارے سامنے احکام اور حدود بیان کی ہیں ﴿ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ﴾ ’’ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان، صاحب ایمان پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ سے نصیحت حاصل کرے اور جتنے بھی نیک اعمال ممکن ہیں ،اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجے۔ اس شخص کے برعکس جس کے دل سے ایمان کوچ کر گیا، پس اسے کوئی پروا نہیں ہوتی کہ اس نے کیا برائی آگے بھیجی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ کی تعظیم نہیں کرتا کیونکہ اس کا موجب معدوم ہے۔ چونکہ طلاق کبھی کبھی تنگی، کرب اور غم میں مبتلا کر دیتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اور اس شخص کے ساتھ، جو طلاق وغیرہ میں تقویٰ پر مبنی رویہ اختیار کرتا ہے، وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کے لیے کشادگی اور (رنج و غم سے) نجات کی راہ نکالے گا۔پس جو کوئی طلاق کا ارادہ کرے تو وہ شرعی طریقے سے طلاق دے اور وہ یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دے اور وہ حیض میں ہونہ ایسے طہر میں جس میں اس نے مطلقہ کے ساتھ مجامعت کی ہو، تو اس کے لیے معاملہ تنگی کا حامل نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فراخی اور وسعت پیدا کرتا ہے، جب اسے طلاق پر ندامت ہوتی ہے تو نکاح کے لیے مطلقہ کی طرف رجوع کرنا ممکن ہوتا ہے۔ آیت کریمہ اگرچہ طلاق اور رجوع کے سیاق میں ہے مگر اعتبار عمومِ لفظ کا ہے ،پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنے احوال میں اس کی رضا کا التزام کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اسے ثواب سے بہرہ مند کرتا ہے۔ منجملہ اس کا ثواب یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی سختی اور مشقت میں سے اس کے لیے فراخی اور نجات کا راستہ پیدا کرتا ہے، جیسا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے فراخی اور نجات کی راہ نکالتا ہے اور جو کوئی اس سے نہیں ڈرتا وہ بوجھ تلے اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا پڑا رہتا ہے جن سے گلو خلاصی اور ان کے ضرر سے نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ طلاق کے معاملے میں اس پر غور کیجیے کیونکہ جب بندہ طلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، بلکہ حرام کردہ طریقے سے طلاق دیتا ہے، مثلاً: یک بارگی تینوں طلاقیں دے دیناوغیرہ تو اسے ایسی پشیمانی ہو گی کہ جس کا تدارک کرنا اور اس سے نجات حاصل کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہو گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتحریمالتحريم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید