الطلاق

طلاق

12 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 4

    وَٱلَّـٰٓـِٔى يَئِسْنَ مِنَ ٱلْمَحِيضِ مِن نِّسَآئِكُمْ إِنِ ٱرْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَـٰثَةُ أَشْهُرٍ وَٱلَّـٰٓـِٔى لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُو۟لَـٰتُ ٱلْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّهُۥ مِنْ أَمْرِهِۦ يُسْرًا

    تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو[1] اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل ہے[2] اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا.

    حواشی

    [1] یہ ان کی عدت ہے جن کا حیض عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے بند ہوگیا، یا جنہیں حیض آنا شروع ہی نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ نادر طور پر ایسا ہوتا ہے کہ عورت سن بلوغت کو پہونچ جاتی ہے اور اسے حیض نہیں آتا۔ [2] مطلقہ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے، چاہے دوسرے روز ہی وضع حمل ہو جائے۔ علاوہ ازیں ظاہر آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر حاملہ عورت کی عدت یہی ہے چاہے وہ مطلقہ ہو یا اس کا خاوند فوت ہوگیا ہو۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، (دیکئھے صحيح بخاري وصحيح مسلم اور دیگر سنن، كتاب الطلاق) دیگر عورتیں جن کے خاوند فوت ہو جائیں، ان کی عدت 4 مہینے 10 دن ہے۔ (سورۂ بقرۃ: 234)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 4 کی تفسیر

    [4] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ مامور بہ طلاق، عورتوں کی عدت کے لیے ہے، اس لیے عدت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَّ الّٰٓـِٔيْ یَىِٕسْنَ مِنَ الْ٘مَحِیْضِ مِنْ نِّسَآىِٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ﴾ وہ عورتیں جن کو حیض آتا تھا ، پھر بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے حیض آنا بند ہو گیا اور دوبارہ حیض آنے کی امید نہ رہی تو ان کی عدت ﴿ ثَلٰ٘ثَةُ اَشْ٘هُرٍ﴾ ’’تین مہینے ہے‘‘ ہر حیض کے مقابلے میں ایک مہینہ مقرر کیا ہے۔ ﴿ وَّ الّٰٓـِٔيْ لَمْ یَحِضْ٘نَ﴾ یعنی چھوٹی لڑکیاں جن کو ابھی حیض نہیں آیا یا وہ بالغ عورتیں جن کو بالکل حیض نہیں آیا، ان عورتوں کی مانند ہیں جو حیض آنے سے مایوس ہو چکی ہیں، ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ رہی وہ عورتیں جن کو حیض آتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی عدت اپنے اس ارشا د میں بیان فرمائی ہے: ﴿ وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْ٘فُ٘سِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُ٘رُوْٓءٍ﴾ (البقرہ:2؍228) ’’اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔‘‘ ﴿ وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُ٘هُنَّ﴾ ’’اور حمل والی عورتوں کی مقررہ مدت‘‘ یعنی ان کی عدت ﴿ اَنْ یَّ٘ضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ ’’وضع حمل تک ہے۔‘‘ یعنی ان کے بطن میں جو ایک یا متعدد بچے ہیں، ان کو وہ جنم دے دیں، اس صورت میں مہینوں وغیرہ کا اعتبار نہ ہو گا۔ ﴿ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا﴾ یعنی جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے تمام امور کو آسان اور ہر مشکل کو سہل کر دیتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتحریمالتحريم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید