التحريم

تحریم

12 آیاتمدنیپارہ 28

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 3

    وَإِذْ أَسَرَّ ٱلنَّبِىُّ إِلَىٰ بَعْضِ أَزْوَٰجِهِۦ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِۦ وَأَظْهَرَهُ ٱللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُۥ وَأَعْرَضَ عَنۢ بَعْضٍ ۖ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِۦ قَالَتْ مَنْ أَنۢبَأَكَ هَـٰذَا ۖ قَالَ نَبَّأَنِىَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْخَبِيرُ

    اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیده بات کہی[1] ، پس جب اس نے اس بات کی خبر کر دی[2] اور اللہ نے اپنے نبی کو اس پر آگاه کر دیا تو نبی نے تھوڑی سی بات تو بتا دی اور تھوڑی سی ٹال گئے[3]، پھر جب نبی نے اپنی اس بیوی کو یہ بات بتائی تو وه کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی[4]۔ کہا سب جاننے والے پوری خبر رکھنے والے اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے.[5]

    حواشی

    [1] وہ پوشیدہ بات شہد کو یا ماریہ (رضی الله عنها)کو حرام کرنے والی بات تھی جو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت حفصہ (رضی الله عنها)سے کی تھی۔ [2] یعنی حفصہ (رضی الله عنها)نے وہ بات حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کو جاکر بتلا دی۔ [3] یعنی حفصہ (رضی الله عنها)کو بتلا دیا کہ تم نے میرا راز فاش کر دیا ہے۔ تاہم اپنی تکریم و عظمت کے پیش نظر ساری بات بتانے سے اعراض فرمایا۔ [4] جب نبی (صلى الله عليه وسلم) نے حفصہ (رضی الله عنها) کو بتلایا کہ تم نے میرا راز ظاہر کر دیا ہے تو وہ حیران ہوئیں کیونکہ انہوں نے حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کے علاوہ کسی کو یہ بات نہیں بتلائی تھی اور عائشہ (رضی الله عنها)سے انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ وہ آپ(صلى الله عليه وسلم) کو بتلا دیں گی، کیونکہ وہ شریک معاملہ تھیں۔ [5] اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے علاوہ بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) پر وحی کا نزول ہوتا تھا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 3 کی تفسیر

    [3] ﴿ وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا﴾ ’’اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی)۔‘‘ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت حفصہrہیں، ان کو نبی ٔاکرم e نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں، پس انھوں نے یہ بات حضرت عائشہr کو بتا دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہr نے افشا کر دی تھی، نبی اکرم e کو آگاہ کر دیا نبی اکرم e نے اپنے حلم اور کرم کی بنا پر اس بات میں سے جو انھوں نے افشاء کی تھی کچھ بات حضرت حفصہr کو بتا دی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا ﴿قَالَتْ﴾ حضرت حفصہ r نے آپ سے عرض کیا: ﴿ مَنْ اَنْۢبـَاَ٘كَ هٰؔذَا﴾ یعنی اس خبر سے آپ کو کس نے آگا ہ کیا، جو ہم سے باہر نہیں نکلی؟ ﴿ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ﴾ ’’مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے ۔‘‘ جس پر کوئی چیز مخفی نہیں وہ بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتملکالملك

غلطی کی اطلاع دیں

مزید