الملك

ملک

30 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 19

    أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَى ٱلطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَـٰٓفَّـٰتٍ وَيَقْبِضْنَ ۚ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا ٱلرَّحْمَـٰنُ ۚ إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَىْءٍۭ بَصِيرٌ

    کیا یہ اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور (کبھی کبھی) سمیٹے ہوئے (اڑنے والے) پرندوں کو نہیں دیکھتے[1] ، انہیں (اللہ) رحمٰن ہی (ہوا وفضا میں) تھامے ہوئے ہے[2]۔ بیشک ہر چیز اس کی نگاه میں ہے.

    حواشی

    [1] پرندہ جب ہوا میں اڑتا ہے تو وہ پر پھیلاتا ہے اور کبھی دوران پرواز پروں کو سمیٹ لیتا ہے۔ یہ پھیلانا، صَف اور سمیٹ لینا قَبْض ہے۔ [2] یعنی دوران پرواز ان پرندوں کو تھامے رکھنے والا کون ہے، جو انہیں زمین پر گرنے نہیں دیتا؟ یہ اللہ رحمان ہی کی قدرت کا ایک نمونہ ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 19 کی تفسیر

    [19] یہ عتاب ہے اور پرندوں کی حالت پر غور کرنے کی ترغیب ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مسخر کیا اور پھر ان کے لیے فضا اور ہوا کو مسخر کیا جس میں وہ پرواز کے لیے پر پھیلائے پھرتے ہیں، نیچے اترنے کے لیے اپنے پروں کو اکٹھا کرتے اور اس فضا میں اپنے ارادے اور ضرورت کے مطابق اِدھر اُدھر تیرتے پھرتے ہیں۔ ﴿ مَا یُمْسِكُ٘هُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ﴾ ’’انھیں اللہ رحمٰن ہی تھامے ہوئے ہے۔‘‘ پس رحمان ہی ہے جس نے ان کے لیے فضائے بسیط کو مسخر کیا اور ان کو ایسی حالت میں پیدا کیا جو پرواز کے لیے مناسب ہے۔ پس جو کوئی پرندوں کی حالت میں غور کر کے عبرت حاصل کرتا ہے تو ان کی یہ حالت اس کے لیے قدرت الٰہی اور عنایت ربانی پر دلالت کرتی ہے، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایک ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ بِكُ٘لِّ شَیْءٍۭؔ بَصِیْرٌ﴾ ’’بے شک ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے۔‘‘ وہ اپنے بندوں کی ان کے لائقِ احوال اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق تدبیر کرتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 19 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقلمالقلم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید