القلم

قلم

52 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 17

    إِنَّا بَلَوْنَـٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـٰبَ ٱلْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا۟ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ

    بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا[1] جس طرح ہم نے باغ والوں کو[2] آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے.[3]

    حواشی

    [1] مراد اہل مکہ ہیں یعنی ہم نے ان کو مال و دولت سے نوازا تاکہ وہ اللہ کا شکر کریں نہ کہ کفر وتکبر لیکن انہوں نے کفر و استکبار کیا تو ہم نے انہیں بھوک اور قحط کی آزمائش میں ڈال دیا جس میں وہ نبی کی بددعا کی وجہ سے کچھ عرصہ مبتلا رہے۔ [2] باغ والوں کا قصہ عربوں میں مشہور تھا۔ یہ باغ (یمن) سے دو فرسخ کے فاصلے پر تھا اس کا مالک اس کی پیداوار غربا و مساکین پر بھی خرچ کرتا تھا، لیکن اس کے مرنے کے بعد جب اس کی اولاد اس کی وارث بنی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے تو اپنے اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں، ہم اس کی آمدنی میں سے مساکین اور سائلین کو کس طرح دیں؟ چنانچہ اللہ تعالٰی نے اس باغ کو تباہ کر دیا، کہتے ہیں یہ واقعہ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے کے تھوڑے عرصے بعد پیش آیا (فتح القدیر) یہ ساری تفصیل تفسیری روایات کی ہے۔ [3] صزم کے معنی ہے کاٹ ڈالنا ،پھل اور کھیتی کا کاٹ دالنا ،مصبحین ضال ہے یعنی صبح ہوتے ہی پھل اتار لیں گے اور پیداوار کاٹ لیں گے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 17 - 18 کی تفسیر

    [17 - 18] اللہ تعالیٰ فرماتا ہےہم نے ان جھٹلانے والوں کو بھلائی کے ساتھ آزمایا ، ہم نے انھیں مہلت دی اور ہم نے ان کی خواہشات نفس کے موافق مال و دولت اور لمبی عمر وغیرہ سے جس سے چاہا، انھیں نوازا۔ اس کا سبب یہ نہ تھا کہ ہمارے نزدیک ان کی کرامت تھی بلکہ بسا اوقات یہ سب کچھ انھیں استدراج کے طور پر عطا کیا جاتا ہےجس کا انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ پس ان کا ان نعمتوں کی وجہ سے دھوکے میں مبتلا ہونا، اس باغ والوں کی فریب خوردگی کی مانند ہے جو باغ کی ملکیت میں شریک تھے جب درختوں کے پھل لگ گئے اور پھلوں نے رنگ پکڑ لیا اور ان کی برداشت کا وقت آن پہنچا، انھیں یقین تھا کہ باغ کی فصل ان کے ہاتھ میں ہے اور کوئی ایسا مانع نہیں جو باغ کی فصل برداشت کرنے سے روکے، اس لیے ان تمام شرکاء نے قسم کھائی اور کسی استثنا (ان شاء اللہ کہنے) کے بغیر حلف اٹھایا کہ وہ فصل کاٹیں گے ، یعنی صبح کے وقت ان کا پھل چنیں گے۔ انھیں اس بات کا ہرگز علم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی گھات میں ہے اور عذاب ان کو پیچھے چھوڑ دے گا اور ان سے آگے بڑھ کر باغ کو جا لے گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 17 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحاقہالحاقة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید