القلم

قلم

52 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 49

    لَّوْلَآ أَن تَدَٰرَكَهُۥ نِعْمَةٌ مِّن رَّبِّهِۦ لَنُبِذَ بِٱلْعَرَآءِ وَهُوَ مَذْمُومٌ

    اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پالیتی تو یقیناً وه برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی اگر اللہ تعالٰی انہیں توبہ و مناجات کی توفیق نہ دیتا اور ان کی دعا قبول نہ فرماتا تو ساحل سمندر کے بجائے جہاں ان کے سائے اور خوراک کے لئے بیلدار درخت اگا دیا گیا، کسی بنجر زمین میں پھینک دیا جاتا اور عند اللہ ان کی حیثیت بھی مذموم رہتی، جب کہ قبولیت دعا کے بعد وہ محمود ہوگئے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 48 - 50 کی تفسیر

    [48 - 50] پس اس کے سوا کچھ باقی نہیں کہ ان کی ایذا رسانیوں پر صبر کیا جائے اور جو کچھ ان سے صادر ہو رہا ہے اس پر تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور ان کو بار بار دعوت دی جائے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے شرعاً اور قدراً جو فیصلہ کیا ہے اس پر صبر کیجیے، حکم قدری یہ ہے کہ ایذا پر صبر کیا جائے، ناراضی اور بے صبری کے ساتھ ان کا سامنا نہ کیا جائے، حکم شرعی کو قبول کیا جائے، اس کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے اور اس کے امر کی اطاعت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ﴾ ’’او رمچھلی والے کی طرح نہ ہونا۔‘‘ اور وہ ہیں یونس بن متیu یعنی اس حال میں حضرت یونسu کی مشابہت اختیار نہ کیجیے جو حال مچھلی کے پیٹ میں ان کے محبوس ہونے کا باعث بنا اور وہ ہے اپنی قوم پر ان کا عدم صبر جو آپ سے مطلوب تھا اور اپنے رب سے ناراض ہو کر جانا حتیٰ کہ آپ کشتی میں سوار ہوئے، جب کشتی بوجھل ہو گئی تو کشتی والوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی کہ کشتی کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے، ان میں سے کس کو سمندر کے اندر پھینکا جائے۔ پس حضرت یونسu کے نام پر قرعہ پڑا ﴿ فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَهُوَ مُلِیْمٌ﴾ (الصافات:37/142) ’’پس ان کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ قابل ملامت کام کرنے والے تھے۔‘‘ ﴿ اِذْ نَادٰى وَهُوَ مَكْ٘ظُ٘وْمٌ﴾ ’’یعنی انھوں نے پکارا جبکہ وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے اور ان پر دروازہ بند کر دیا گیا تھا یا یہ کہ انھوں نے پکارا اور وہ ہم و غم سے لبریز تھے، چنانچہ کہا: ﴿لَّاۤ اِلٰ٘هَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّیْؔ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴾ (الأنبیاء:21؍87) ’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونسu کی دعا قبول فرما لی، چنانچہ مچھلی نے انھیں جبکہ وہ بیمار تھے، چٹیل میدان میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر کدو کی بیل اگا دی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ لَوْلَاۤ اَنْ تَدٰؔرَؔكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْ٘عَرَآءِ﴾ ’’اگر اس کے رب کی مہربانی ان کی یاوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیے جاتے۔‘‘ یعنی انھیں چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا (اَلْعَرَاءِ) سے مراد (ہر قسم کی نباتات سے) خالی زمین ہے۔ ﴿ وَهُوَ مَذْمُوْمٌؔ﴾ ’’اور وہ برے حال میں تھے۔‘‘ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے ڈھانپ دیا، ان کو اس حال میں پھینک دیا گیا کہ وہ ممدوح تھے۔ اور ان کی یہ حالت پہلی حالت سے بہتر ہو گئی۔ ﴿فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو منتخب کر لیا اور ان کو ہر کدورت سے پاک کر دیا ﴿ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰؔلِحِیْنَ﴾ ’’اور ان کو نیکوکاروں میں سے کردیا۔‘‘ ، یعنی وہ لوگ جن کے اعمال و اقوال اور نیت و احوال درست ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 49 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحاقہالحاقة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید