الحاقة

حاقہ

52 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 46

    ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ ٱلْوَتِينَ

    پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے.[1]

    حواشی

    [1] خیال رہے یہ سزا، خاص نبی (صلى الله عليه وسلم) کے ضمن میں بیان کی گئی ہے جس سے مقصد آپ کی صداقت کا اظہار ہے۔ اس میں یہ اصول بیان نہیں کیا گیا ہے کہ جو بھی نبوت کا جھوٹا وعدہ کرے تو جھوٹے مدعی کو ہم فورا سزا سے دوچار کردیں گے لہذا اس سے کسی جھوٹے نبی کو اس لیے سچا باور نہیں کرایا جاسکتا کہ دنیا میں وہ مؤخذہ الہی سے بچا رہا۔واقعات بھی شاہد ہیں کہ متعدد لوگوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کیے اور اللہ نے انہیں ڈھیل دی اور دنیوی مواخذا سے وہ با لعموم محفوظہی رہے۔اس لئے اگر اسے اصول ناب لیا جائے تو پھر متعدد جھوٹے مدعیان نبوت کو "سچا نبی ماننا پڑے گا،

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 44 - 47 کی تفسیر

    [44 - 47] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰؔجِزِیْنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 46 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمعارجالمعارج

غلطی کی اطلاع دیں

مزید