الأعراف

اعراف

206 آیاتمکیپارہ 8

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 165

    فَلَمَّا نَسُوا۟ مَا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦٓ أَنجَيْنَا ٱلَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلسُّوٓءِ وَأَخَذْنَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ بِعَذَابٍۭ بَـِٔيسٍۭ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

    سو جب وه اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا[1] تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو کہ زیادتی کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا اس وجہ سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے۔[2]

    حواشی

    [1] یعنی وعظ ونصیحت کی انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی اور نافرمانی پر اڑے رہے ۔ [2] یعنی وہ ظالم بھی تھے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کا ارتکاب کرکے انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور انہیں جہنم کا ایندھن بنا لیا اور فاسق بھی، کہ اللہ کے حکموں سے سرتابی کو انہوں نے اپناشیوہ اور وطیرہ بنا لیا ۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 165 کی تفسیر

    [165] ﴿ فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّ٘رُوْا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕیْسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘ رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهْلِكُ٘هُمْ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهْلِكُ٘هُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابً٘ا شَدِیْدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 165 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانفالالأنفال

غلطی کی اطلاع دیں

مزید