الأعراف

اعراف

206 آیاتمکیپارہ 8

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 201

    إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ إِذَا مَسَّهُمْ طَـٰٓئِفٌ مِّنَ ٱلشَّيْطَـٰنِ تَذَكَّرُوا۟ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ

    یقیناً جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی خطره شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وه یاد میں لگ جاتے ہیں، سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔[1]

    حواشی

    [1] اس میں اہل تقویٰ کی بابت بتلایا گیا ہے کہ وہ شیطان سے چوکنا رہتے ہیں۔ طائف یا طیف، اس تخیل کو کہتے ہیں جو دل میں آئے یا خواب میں نظر آئے۔ یہاں اسے شیطانی وسوسے کے معنی میں استعمال کیا گیا، کیونکہ وسوسۂ شیطانی بھی خیالی تصورات کے مشابہ ہے۔ ( فتح القدیر)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 201 کی تفسیر

    [201] جب بندے کا غافل ہو جانا اور اس شیطان کا اس کو کچھ نہ کچھ شکار کر لینا لابدی امر ہے، جو ہمیشہ گھات لگائے رہتا اور بندے کی غفلت کا منتظر رہتا ہے تو اب اللہ تعالیٰ نے گمراہ کرنے والوں سے بچ جانے والوں کی علامت ذکر کی ہے... اور صاحب تقویٰ جب شیطانی وسوسے کو محسوس کر لیتا ہے اور وہ کسی فعل واجب کو ترک کر کے یا کسی فعل حرام کا ارتکاب کر کے گناہ کر بیٹھتا ہے تو فوراً اسے تنبیہ ہوتی ہے، وہ غور کرتا ہے کہ شیطان کہاں سے حملہ آور ہوا ہے اور کون سے دروازے سے داخل ہوا ہے۔ وہ ان تمام لوازم ایمان کو یاد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب قرار دیے ہیں تو اسے بصیرت حاصل ہو جاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے اور جو اس سے کوتاہی واقع ہوئی ہے توبہ اور نیکیوں کی کثرت کے ذریعے سے اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پس وہ شیطان کو ذلیل و رسوا کر کے دھتکار دیتا ہے اور شیطان نے اس سے جو کچھ حاصل کیا ہوتا ہے، اس پر پانی پھیر دیتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 201 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانفالالأنفال

غلطی کی اطلاع دیں

مزید