الأعراف

اعراف

206 آیاتمکیپارہ 8

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 28

    وَإِذَا فَعَلُوا۟ فَـٰحِشَةً قَالُوا۟ وَجَدْنَا عَلَيْهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

    اور وه لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو یہی بتایا ہے۔ آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ فحش بات کی تعلیم نہیں دیتا، کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کی تم سند نہیں رکھتے؟[1]

    حواشی

    [1] اسلام سے قبل مشرکین بیت اللہ کا ننگا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس حالت کو اختیار کرکے طواف کرتے ہیں جو اس وقت تھی جب ہمیں ہماری ماؤں نے جنا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ اس کی یہ تاویل کرتے تھے کہ ہم جو لباس پہنے ہوتے ہیں اس میں ہم اللہ کی نافرمانی کرتے رہتے ہیں، اس لئے اس لباس میں طواف کرنا مناسب نہیں۔ چنانچہ وہ لباس اتار کر طواف کرتے اور عورتیں بھی ننگی طواف کرتیں، صرف شرم گاہ پر کپڑا یا چمڑے کا ٹکڑا رکھ لیتیں۔ اپنے اس شرمناک فعل کے لئے دو عذر انہوں نے اور پیش کئے۔ ایک تو یہ کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو اس طرح ہی کرتے پایا ہے۔ دوسرا، یہ کہ اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بے حیائی کا حکم دے ؟ یعنی تم اللہ کے ذمے وہ بات لگاتے ہو جو اس نے نہیں کہی۔ اس آیت میں ان مقلدین کے لئے بڑی زجر و توبیخ ہے جو آباپرستی، پیرپرستی اور شخصیت پرستی میں مبتلا ہیں، جب انہیں بھی حق کی بات بتلائی جاتی ہے تو اس کے مقابلے میں یہی عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمارے بڑے یہی کرتے آئے ہیں یا ہمارے امام اور پیر وشیخ کا یہی حکم ہے۔ یہی وہ خصلت ہے جس کی وجہ سے یہودی، یہودیت پر، نصرانی نصرانیت پر اور بدعتی بدعتوں پر قائم رہے۔ (فتح القدیر)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 28 کی تفسیر

    [28] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتا ہے جو گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً ﴾ ’’جب وہ کوئی فحش کام کرتے ہیں ۔‘‘ فحش سے مراد ہر وہ کام ہے جو برا اور انتہائی قبیح ہو۔ عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ ﴿قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا ﴾ ’’کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے‘‘ اور وہ اس بارے میں سچے ہیں ﴿وَاللّٰہُ اَمَرَنَا بِھَا﴾ ’’اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے‘‘ وہ اس فحش کام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے میں جھوٹ بولتے ہیں ۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُ٘لْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَ٘اْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ بے حیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔‘‘ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کمال کے لائق نہیں کہ وہ اپنے بندوں کو فحش کاموں کا حکم دے، اللہ نے اس فحش کام کا حکم دیا ہے، جس کا ارتکاب یہ مشرک کرتے ہیں نہ کسی اور فحش کام کا۔ ﴿اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ﴾ ’’کیا تم اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاتے ہو جو تم کو معلوم نہیں ‘‘ اور اس سے بڑا اور کون سا بہتان ہو سکتا ہے؟

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 28 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانفالالأنفال

غلطی کی اطلاع دیں

مزید