المعارج

معارج

44 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 2

    لِّلْكَـٰفِرِينَ لَيْسَ لَهُۥ دَافِعٌ

    کافروں پر، جسے کوئی ہٹانے واﻻ نہیں.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 4 کی تفسیر

    [1 - 4] اللہ تبارک و تعالیٰ معاندینِ حق کی جہالت کو، اور استہزا کے طور پر ان کے عذاب الٰہی کو مشکل اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے ہوئے عذاب کے لیے جلدی مچانے کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ﴾ یعنی دعا کرنے والے نے دعا کی اور نصرت طلب کرنے والے نے نصرت طلب کی ﴿بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ۰۰لِّلْ٘كٰفِرِیْنَ﴾ ’’عذاب کی جو واقع ہوکر رہے گا کافروں پر۔‘‘ ان کے کفر و عناد کی بنا پر، عذاب کے مستحق ہونے کی وجہ سے ﴿ لَ٘یْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ۰۰مِّنَ اللّٰهِ ﴾ متکبر اور سرکش مشرکین میں سے جس کسی نے جلد عذاب کی خواہش کی ہے، کوئی اس عذاب کو اس کے نازل ہونے سے قبل روک سکتا ہے نہ اس کے نازل ہونے کے بعد اس کو اٹھا سکتا ہے۔ یہ آیات کریمہ اس وقت نازل ہوئیں جب نضر بن حارث قرشی وغیرہ اہل تکذیب نے دعا کرتے ہوئے کہا﴿ اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ﴾ (الأنفال: 32/8)’’اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے، تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب ضرور واقع ہو گا، یا تو اس دنیا ہی میں جلد ان پر عذاب بھیج دیا جائے گا یا آخرت میں (مبتلا کرنے کے لیے) اس عذاب کو ان سے مؤخر کیا جائے گا۔ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی ہوتی، اس کی عظمت، اس کی وسعت سلطنت اور اس کے اسماء و صفات کو پہچانا ہوتا تو وہ کبھی جلدی نہ مچاتے بلکہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے اور ادب اختیار کرتے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا ذکر فرمایا جو ان کے اقوال قبیحہ کی ضد ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ذِی الْمَعَارِجِؕ۰۰ تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ اِلَیْهِ﴾ یعنی وہ بلندی، جلال، اور عظمت کا مالک ہے، تمام مخلوقات کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی طرف اس چیز کے ساتھ فرشتے عروج کرتے ہیں جس کی تدبیر پر انھیں مقرر کیا ہے اور اس کی طرف روح بلند ہوتی ہے۔ یہ اسم جنس ہے جو تمام ارواح کو شامل ہے، خواہ نیک ہوں یا بد، اللہ تعالیٰ کی طرف ارواح کا بلند ہونا، وفات کے وقت ہے۔ نیک لوگوں کی ارواح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتی ہیں، انھیں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف بلند ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے، یہاں تک کہ ارواح اس آسمان پر پہنچ جاتی ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ ان کا رب تشریف فرما ہے، یہ ارواح اللہ تعالیٰ کے حضور تحیہ و سلام پیش کرتی ہیں اس کے قرب سے سرفراز ہوتی ہیں اور اس کے قرب سے بہجت و سرور حاصل کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ثنا و اکرام، بھلائی اور بڑائی حاصل ہو گی۔ رہیں فساق و فجار کی ارواح تو وہ عروج کرتی ہیں جب وہ آسمان پر پہنچتیں ہیں تو آنے کی اجازت طلب کرتی ہیں، مگر ان کو اجازت نہیں دی جاتی اور ان کو زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مسافت کا ذکر فرمایا جس کو طے کر کے فرشتے اور روح اللہ تعالیٰ کی طرف عروج کرتے ہیں، نیز یہ کہ وہ ان اسباب کے ذریعے سے ایک دن میں عروج کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آسان کیے ہیں اور اوپر چڑھنے میں ان کی لطافت، خفت اور سرعت رفتار ان کی اعانت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عام عادی رفتار کے مطابق، یہ مسافت ابتدائے عروج سے لے کر اس حد تک جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور ملأ اعلیٰ تک، پچاس ہزار برس کے برابر ہے۔ یہ عظیم بادشاہی، یہ وسیع کائنات، علوی اور سفلی، اس کی تخلیق اور تدبیر کا انتظام، وہی بلند و برتر کرتا ہے۔ پس وہ ان کے ظاہری و باطنی احوال کا علم رکھتا ہے، وہ ان کے ٹھکانے کو جانتا ہے اور اسے اس جگہ کا علم ہے جہاں ان کو سونپا جانا ہے، اس نے اپنی رحمت، احسان اور رزق ان تک پہنچایا جو ان سب پر عام اور سب کو شامل ہے۔ اس نے ان پر حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کو جاری کیا۔پس شدت ہے ان لوگوں کے لیے جو اس کی عظمت کے بارے میں جہالت کا شکار ہیں اور انھوں نے اس کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے، پس انھوں نے عجز ثابت کرنے اور امتحان کے طور پر عذاب کے لیے جلدی مچائی … پاک ہے حلم اور درگزر کرنے والی ہستی جس نے ان کو ڈھیل دے رکھی مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑا، انھوں نے اس کو اذیت پہنچائی مگر اس نے ان کے بارے میں صبر کیا، ان کو معاف کر دیا اور ان کو رزق عطا کیا۔ یہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک احتمال ہے، پس یہ عروج اور چڑھنا اس دنیا میں ہے کیونکہ آیت کریمہ کا پہلا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے بندوں پر اپنی عظمت، جلال اور کبریائی ظاہر کرے گا جو اس کی معرفت کی سب سے بڑی دلیل ہے وہ فرشتوں اور ارواح کو تدابیر الٰہیہ اور امور ربانیہ کے ساتھ چڑھتے اترتے مشاہدہ کریں گے۔یہ اس روز ہوگا جس کا اندازہ اس کی لمبائی اور شدت کی بنا پر پچاس ہزار سال ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ مومنوں پر تخفیف فرمائے گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنوحنوح

غلطی کی اطلاع دیں

مزید