المعارج

معارج

44 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 37

    عَنِ ٱلْيَمِينِ وَعَنِ ٱلشِّمَالِ عِزِينَ

    دائیں اور بائیں سے گروه کے گروه..[1]

    حواشی

    [1] یہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے زمانے کے کفار کا ذکر ہے کہ وہ آپ کی مجلس میں دوڑتے دوڑتے آتے، لیکن آپ کی باتیں سن کر عمل کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑاتے اور ٹولیوں میں بٹ جاتے۔ اور دعویٰ یہ کرتے کہ اگر مسلمان جنت میں گئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ اللہ نے اگلی آیت میں ان کے اس زعم باطل کی تردید فرمائی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 36 - 39 کی تفسیر

    [36 - 39] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی فریب خوردگی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَ﴾ ’’پس ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمھاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔‘‘ یعنی بڑی سرعت سے ﴿ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ﴾ ’’دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہوکر۔‘‘ یعنی متفرق گروہوں اور مختلف جماعتوں میں۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس جو کچھ ہے اسی پر خوش ہے۔ ﴿ اَیَطْمَعُ كُ٘لُّ امْرِئٍ مِّؔنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍ﴾ ’’کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا۔‘‘ یعنی کس سبب کی بنا پر وہ توقع رکھتے ہیں جبکہ ان سب کا حال یہ ہے کہ انھوں نے کفر اور رب کائنات کے انکار کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا؟ بنابریں فرمایا: ﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ان کی آرزؤ ں کے مطابق ہو گا نہ وہ اپنی قوت کے ذریعے سے ہر وہ چیز حاصل کرسکیں گے جسے وہ چاہیں گے۔ ﴿ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّؔمَّا یَعْلَمُوْنَ﴾ ’’ہم نے انھیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں اچھل کر گرنے والے پانی سے بنایا جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پس وہ بہت کمزور ہیں، وہ خود اپنے کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں، وہ موت پر قادر ہیں نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 37 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنوحنوح

غلطی کی اطلاع دیں

مزید