المعارج

معارج

44 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 44

    خَـٰشِعَةً أَبْصَـٰرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يُوعَدُونَ

    ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی[1] ، ان پر ذلت چھا رہی ہوگی[2]، یہ ہے وه دن جس کا ان سے وعده کیا جاتا تھا.[3]

    حواشی

    [1] جس طرح مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے کرتوتوں کا علم ہوتا ہے۔ [2] یعنی سخت ذلت انہیں اپنی لپیٹ میں لے رہی ہوگی اور ان کے چہرے مارے خوف کے سیاہ ہوں گے۔ [3] یعنی رسولوں کی زبانی اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 43 - 44 کی تفسیر

    [43 - 44] پھر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے حال کا ذکر فرمایا جب وہ اس دن کا سامنا کریں گے جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، چنانچہ فرمایا: ﴿ یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ﴾ ’’اس دن یہ قبر وں سے نکلیں گے۔‘‘ ﴿ سِرَاعًا﴾ ’’دوڑتے ہوئے۔‘‘ پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بڑی سرعت سے اس پکار کی طرف لپکیں گے ﴿ كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ﴾ ’’جیسے وہ معین نشان کی طرف دوڑ رہےہوں۔‘‘ یعنی گویا کہ وہ ایک نشان کا قصد رکھتے ہیں، وہ اس داعی کی آواز کی نافرمانی کر سکیں گے نہ پکارنے والے کی پکار سے ادھر ادھر التفات کریں گے بلکہ ذلیل و مقہور ہو کر رب کائنات کے سامنے پیش ہوں گے۔ ﴿ خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ﴾ وہ اس طرح کہ ذلت اور اضطراب ان کے دلوں اور عقلوں پر غالب آ جائیں گے، ان کی نگاہیں جھک جائیں گی، تمام حرکات ساکن اور تمام آوازیں منقطع ہو جائیں گی ، پس یہ حال اور یہ انجام اس دن ہوگا ﴿ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ﴾ ’’جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کا پورا ہونا لا زمی امر ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 44 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنوحنوح

غلطی کی اطلاع دیں

مزید