نوح

نوح

28 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 11

    يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا

    وه تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا.[1]

    حواشی

    [1] بعض علماء اسی آیت کی وجہ سے نماز استسقاء میں سورہ نوح کے پڑھنے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ مروی ہے کہ حضرت عمر سبھی ایک مرتبہ نماز استسقاء کے لئے منبر پر چڑھے تو صرف آیات استغفار (جن میں یہ آیت بھی تھی) پڑھ کر منبر سے اتر آئے۔ اور فرمایا کہ میں نے بارش کو، بارش کے ان راستوں سے طلب کیا ہے جو آسمانوں میں ہیں جن سے بارش زمین پر اترتی ہے (ابن کثیر) حضرت حسن بصری کے متعلق مروی ہے کہ ان سے آکر کسی نے قحط سالی کی شکایت کی تو انہوں نے اسے استغفار کی تلقین کی، کسی دوسرے شخص نے فقرو فاقہ کی شکایت کی، اسے بھی انہوں نے یہی نسخہ بتلایا۔ ایک اور شخص نے اپنے باغ کے خشک ہونے کا شکوہ کیا، اسے بھی فرمایا، استغفار کر۔ ایک شخص نے کہا، میرے گھر اولاد نہیں ہوتی، اسے بھی کہا اپنے رب سے استغفار کر۔ کسی نے جب ان سے کہا کہ آپ نے استغفار ہی کی تلقین کیوں کی؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت کرکے فرمایا، کہ میں نے اپنے پاس سے یہ بات نہیں کی، یہ وہ نسخہ ہے جو ان سب باتوں کے لئے اللہ نے بتلایا ہے۔ (السیر التفاسیر)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 10 - 12 کی تفسیر

    [10 - 12] ﴿ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا﴾ یعنی میں نے انھیں کہا کہ تم جن گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہو، ان کو چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ سے ان گناہوں کی بخشش طلب کرو۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا﴾ جو کوئی توبہ کر کے اس سے بخشش طلب کرتا ہے، وہ اسے کثرت سے بخشتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں کی بخشش اور اس پر جو ثواب مترتب ہوتا ہے اور جو عذاب دور ہوتا ہے، اس کی ترغیب دی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو دنیا کی فوری بھلائی کے ذریعے سے ترغیب دی، چنانچہ فرمایا: ﴿ یُّرْسِلِ السَّمَآءَؔ عَلَیْكُمْ مِّؔدْرَارًا﴾ یعنی وہ تم پر لگاتار بارش برسائے گا جو وادیوں اور ٹیلوں کو سیراب کر دے گی، شہروں اور بندوں کو زندگی عطا کرے گی۔﴿ وَّیُمْدِدْؔكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ﴾ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمھارے اموال میں، جن کے ذریعے سے تم دنیا کی ہر وہ چیز حاصل کرتے ہو، جس کی تمھیں طلب ہوتی ہے، اور تمھاری اولاد میں کثرت عطا کرے گا ﴿وَیَجْعَلْ لَّـكُمْ جَنّٰتٍ وَّیَجْعَلْ لَّـكُمْ اَنْ٘هٰرًا﴾ ’’اور تمھارے لیے باغات پیدا کرے گا اور نہریں جاری کردے گا۔‘‘ یہ دنیا کی لذتوں اور اس کے مطالب کی انتہا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 11 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتجنّالجن

غلطی کی اطلاع دیں

مزید