نوح

نوح

28 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 22

    وَمَكَرُوا۟ مَكْرًا كُبَّارًا

    اور ان لوگوں نے بڑا سخت فریب کیا.[1]

    حواشی

    [1] یہ مکر یا فریب کیا تھا ؟بعض کہتے ہیں ان کا بعض لوگوں کو حضرت نوح (عليه السلام) کے قتل پر ابھارنا تھا بعض کہتے ہیں کہ مال واولاد کی وجہ سے جس فریب نفس کا وہ شکار ہوئے حتی کہ بعض نے کہا کہ اگر یہ حق پر نہ ہوتے تو ان کو یہ نعمتیں کیوں میسر آتیں؟ اور بعض کے نزدیک ان کے بڑوں کا یہ کہنا تھا کہ تم اپنے معبودوں کی عبادت مت چھوڑنا، بعض کے نزدیک ان کا کفر ہی، بڑا مکر تھا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 21 - 24 کی تفسیر

    [21 - 24] ﴿ قَالَ نُوْحٌ﴾ نوح u نے اپنے رب کے حضور شکوہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ ان کے اندر اس کلام اور وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ نہیں دیا ﴿ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ﴾ اے میرے رب! انھوں نے ان تمام امور میں میری نافرمانی کی ہے جن کا میں نے ان کو حکم دیا ﴿ وَاتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَوَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًا﴾ یعنی انھوں نے خیر خواہی کرنے اور بھلائی کی طرف راہ نمائی کرنے والے رسول کی نافرمانی کی اور ان بڑے لوگوں اور اشراف کی پیروی کی جن کو ان کے مال اور اولاد نے خسارے میں ڈالا، یعنی ان کو ہلاکت میں مبتلا کیا اور منافع سے محروم کر دیا، تب اس شخص کا کیا حال ہو گا جس نے ان کی اطاعت کی اور ان کے احکام پر عمل کیا؟ ﴿ وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًؔا﴾ یعنی انھوں نے حق کے خلاف عناد میں بہت بڑی چال چلی ﴿وَقَالُوْا﴾اور انھوں نے شرک کی دعوت دیتے اور اس کو مزین کرتے ہوئے کہا: ﴿ لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ﴾ ’’اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا۔‘‘ انھوں نے ان کو اس شرک کے تعصب کی طرف بلایا جس پر وہ عمل پیرا تھے اور کہا کہ وہ اس دین کو نہ چھوڑیں جس کو ان کے پہلے آباء و اجداد نے اختیار کیا ہوا تھا، پھر انھوں نے اپنے معبودوں کا نام لے کر کہا :﴿ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا١ۙ ۬ وَّلَا یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا﴾ ’’ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا۔‘‘ یہ نیک لوگوں کے نام ہیں، جب وہ فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے سامنے یہ مزین کر دیا کہ وہ ان نیک لوگوں کے بت بنائیں تاکہ ... بزعم خود ... جب وہ ان کو دیکھیں تو ان کو اطاعت میں نشاط حاصل ہو۔ جب طویل زمانہ گزر گیا اور ان کے بعد دوسرے لوگ آئے تو شیطان نے ان سے کہا ’’تمھارے اسلاف ان بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کو وسیلہ بنایا کرتے تھے، اور ان کے وسیلے سے بارش مانگا کرتے تھےتو انھوں نے ان کی پوجا شروع کردی، اسی لیے ان کے سرداروں نے اپنے پیروکاروں کو نصیحت کی کہ وہ ان بتوں کی عبادت کو نہ چھوڑیں۔ ﴿ وَقَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا﴾ یعنی ان بڑوں اور سرداروں نے اپنی دعوت کے ذریعے سے بہت سی مخلوق کو گمراہ کر دیا ﴿ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا﴾ ’’تو تُو ان کو اور گمراہ کردے۔‘‘ میرے ان کو حق کی دعوت دینے کے وقت اگر وہ گمراہ ہوتے تو یہ مصلحت تھی مگر ان سرداروں کی دعوت سے ان کی گمراہی میں اضافہ ہی ہوا ہے، یعنی اب ان کی کامیابی اور اصلاح کا کوئی امکان باقی نہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 22 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتجنّالجن

غلطی کی اطلاع دیں

مزید