نوح

نوح

28 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 7

    وَإِنِّى كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوٓا۟ أَصَـٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَٱسْتَغْشَوْا۟ ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ ٱسْتِكْبَارًا

    میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا[1] انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں[2] اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا[3] اور اڑ گئے[4] اور بڑا تکبر کیا.[5]

    حواشی

    [1] یعنی ایمان اور اطاعت کی طرف، جو سبب مغفرت ہے۔ [2] تاکہ میری آواز سن سکیں۔ [3] تاکہ میرا چہرہ نہ دیکھ سکیں یا اپنے سروں پر کپڑے ڈال دیے تاکہ میرا کلام نہ سن سکیں، یہ ان کی طرف سے شدت عداوت کا اور وعظ و نصیحت سے بے نیازی کا اظہار ہے۔ بعض کہتے ہیں، اپنے کپڑوں سے ڈھانک لینے کا مقصد یہ تھا کہ پیغمبر ان کو پہچان نہ سکے اور انہیں قبولیت دعوت کے لئے مجبور نہ کرے۔ [4] یعنی کفر پر مصر رہے، اس سے باز نہ آئے اور توبہ نہیں کی۔ [5] قبول حق اور امتثال امر سے انہوں نے سخت تکبر کیا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 5 - 7 کی تفسیر

    [5 - 7] پس انھوں نے نوح uکی دعوت کو قبول کیا نہ ان کے حکم کی اطاعت کی تو حضرت نوحu نے اپنے رب سے شکوہ کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا﴾ ’’میرے رب! میں اپنی قوم کو دن رات بلاتا رہا لیکن وہ میرے بلانے سے اور زیادہ گریز کرتے رہے۔‘‘ یعنی حق سے نفرت اور اس سے روگردانی میں اضافہ ہی ہوا ۔ پس دعوت کا کوئی فائدہ باقی نہ رہا کیونکہ دعوت کا فائدہ تب ہے کہ دعوت کے تمام مقاصد یا ان سے کچھ مقاصد حاصل ہوں۔ ﴿ وَاِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ﴾ ’’اور میں نے جب بھی ان کو پکارا تاکہ تو ان کو بخش دے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ اس دعوت کو قبول کریں جب وہ دعوت کو قبول کر لیں گے تو ان کو بخش دیا جائے گا اور اس میں محض ان کی مصلحت ہے۔ مگر وہ اپنے باطل پر مصر اور حق سے دور بھاگتے رہے ﴿ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ﴾ ’’انھوں نے کانوں میں انگلیاں دے لیں۔‘‘ اس ڈر سے کہ کہیں وہ باتیں ان کے کان میں نہ پڑ جائیں جو ان سے، ان کا نبی، نوح (u) کہتا ہے۔ ﴿ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ﴾ یعنی حق سے بعد اور بغض کی بنا پر، اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانپ کر پردہ کر لیا ﴿ وَاَصَرُّوْا﴾ اور انھوں نے اپنے کفر اور شر پر اصرار کیا ﴿ وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا﴾ اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا، پس ان کا شر بڑھ گیا اور بھلائی ان سے دور ہو گئی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتجنّالجن

غلطی کی اطلاع دیں

مزید