الجن

جنّ

28 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 8

    وَأَنَّا لَمَسْنَا ٱلسَّمَآءَ فَوَجَدْنَـٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا

    اور ہم نے آسمان کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت چوکیداروں اور سخت شعلوں سے پر پایا.[1]

    حواشی

    [1] حَرَسٌ، حَارِسٌ (چوکیدارنگران)کی اور شُهُبٌ، شِهَابٌ (شعلہ)کی جمع ہے یعنی آسمانوں پر فرشتے چوکیداری کرتے ہیں کہ آسمانوں کی کوئی بات کوئی اور نہ سن لے اور یہ ستارے آسمان پر جانے والے شیاطین پر شعلہ بن کر گرتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 8 - 9 کی تفسیر

    [8] ﴿ وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَؔ﴾ یعنی جب ہم آسمان پر آئے اور وہاں کے حالات کی خبر لی ﴿ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا ﴾ ’’تو ہم نے بھرا ہوا پایا اس کو مضبوط چوکیدار سے۔‘‘ یعنی اس کے کناروں تک پہنچنے اور اس کے قریب آنے سے، اس کی حفاظت کی گئی تھی ﴿ وَّشُهُبًا ﴾ ’’اور انگاروں سے۔‘‘ ان شہابوں (انگاروں) کو ان (جنات) پر پھینکا جاتا ہے، جو آسمانوں کی سن گن لینے کی کوشش کرتے ہیں یہ ہماری پہلی عادت کے برعکس ہے، کیونکہ پہلے ہمارے لیے آسمان کی خبروں تک رسائی ممکن تھی۔ [9] ﴿ وَّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ﴾ ’’اس سے پہلے ہم سن گن لینےکے لیے آسمان کے ٹھکانوں پر بیٹھا کرتےتھے۔‘‘ ہم اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق آسمان کی خبریں حاصل کرلیتے تھے ﴿ فَ٘مَنْ یَّ٘سْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابً٘ا رَّصَدًا﴾اب اگر کوئی سن گن لینے کی کوشش کرتاہے تو شہاب کو تیار پاتا ہے ، یعنی اس کی گھات لگائے ہوئے، اس کو تلف کرنے اور جلا ڈالنے کے لیے تیار ہوتا ہے، اس کا معاملہ بہت عظیم اور اس کی خبر بہت بڑی ہے۔ انھیں قطعی طور پر یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ایک بڑا واقعہ وقوع پذیر کرنے کا ارادہ فرمایا ہے۔ اس لیے انھوں نے کہا:

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 8 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمزمّلالمزمل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید