المزمل

مزمّل

20 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 3

    نِّصْفَهُۥٓ أَوِ ٱنقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا

    آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کرلے.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 5 کی تفسیر

    [1 - 5] ﴿ الْ٘مُزَّمِّلُ﴾ کا معنی بھی ﴿الْمُدَّثِّ٘رُ﴾ کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہe کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبریلu کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف تھے۔ آپ نے ایک ایسا معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔ آپ کے پاس جبریل آئے اور کہا ’’پڑھیے!‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں پڑھ نہیں سکتا‘‘ جبریل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبریل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالآخر رسول اللہ e نے پڑھا، یہ وحی و تنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا، اس سے آپ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، آپ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لائے تو آپ پر کپکپی طاری تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات سے بہرہ ور کیا اور آپ پر پے در پے وحی نازل ہوئی حتیٰ کہ آپ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی رسول نہیں پہنچ سکا۔ (سُبْحَانَ اللہ!) وحی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مابین کتنا بڑا تفاوت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وصف کے ساتھ مخاطب فرمایا جو آپ میں ابتدا کے وقت پایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کو ان عبادات کا حکم دیا جو آپ سے متعلق تھیں، پھر آپ کو اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اس کے حکم کو کھلم کھلا بیان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا اعلان کر دیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل ترین عبادت، نماز کو موکد ترین اور بہترین وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا اور وہ ہے تہجد کی نماز۔ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا :﴿ قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا﴾ ’’رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔‘‘پھر اس کا اندازہ مقرر کر دیا، چنانچہ فرمایا: ﴿نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُ٘صْ مِنْهُ﴾ نصف رات یا نصف میں سے ﴿قَلِیْلًا﴾ کچھ کم کر دیجیے، ایک تہائی کے لگ بھگ ہو ﴿اَوْ زِدْ عَلَیْهِ﴾ یا نصف سے کچھ زیادہ، یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ﴿وَرَتِّلِ الْ٘قُ٘رْاٰنَ تَرْتِیْلًا﴾ ’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘‘ کیونکہ ترتیلِ قرآن سے تدبر اور تفکر حاصل ہوتا ہے، اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبُّد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ فرمایا: ﴿اِنَّا سَنُلْ٘قِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا﴾ یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے، یعنی وہ معانئ عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غورو فکر کیا جائے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمدثّرالمدثر

غلطی کی اطلاع دیں

مزید