المدثر

مدثّر

56 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 51

    فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍۭ

    جو شیر سے بھاگے ہوں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی یہ حق سے نفرت اور اعراض کرنے میں ایسے ہیں جیسے وحشی، خوف زدہ گدھے، شیر سے بھاگتے ہیں جب وہ ان کا شکار کرنا چاہیے۔قسورۃ'بمعنی شیر بعض نے تئر انداز معنی بھی کئے ہیں ۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 49 - 53 کی تفسیر

    [49 - 53] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا: ﴿ فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِیْنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمْ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ یُرِیْدُ كُ٘لُّ امْرِئٍ مِّؔنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 51 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتقیامہالقيامة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید