القيامة

قیامہ

40 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 27

    وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ

    اور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک[1] کرنے واﻻ ہے؟

    حواشی

    [1] یعنی حاضرین میں سے کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کے ذریعہ سے تمہیں موت کے پنجے سے چھڑا لے۔ بعض نے اس کا ترجمہ یہ بھی کیا ہے کہ اس کی روح کون لے کر چڑھے گا ملائکہ رحمت یا ملائکہ عذاب؟ اس صورت میں یہ قول فرشتوں کا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 26 - 30 کی تفسیر

    [26 - 30] اللہ تبارک و تعالیٰ قریب المرگ شخص کا حال بیان کر کے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، جبکہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی (حلق) تک پہنچ جائے گی۔ ﴿التَّرَاقِيَ﴾سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنھوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے، پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَقِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍ﴾ یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرے؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا و قدر کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔﴿وَّظَ٘نَّ اَنَّهُ الْ٘فِرَاقُ﴾ اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے ﴿ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ﴾ ’’اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔‘‘ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہو جائے گا، خواہش ہو گی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے۔ پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے۔یہ زجر و توبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، دلوں کو اس منزل کی طرف لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات ہے اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 27 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانسان (دہر)الإنسان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید