المرسلات

مرسلات

50 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 27

    وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَٰسِىَ شَـٰمِخَـٰتٍ وَأَسْقَيْنَـٰكُم مَّآءً فُرَاتًا

    اور ہم نے اس میں بلند وبھاری پہاڑ بنادیے[1] اور تمہیں سیراب کرنے واﻻ میٹھا پانی پلایا.

    حواشی

    [1] رواسي راسية کی جمع۔ ثاوبت، جمے ہوئے پہاڑ، شامخات، بلند۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 25 - 28 کی تفسیر

    [25 - 28] یعنی کیا ہم نے تم پر احسان نہیں کیا اور تہارے مصالح کے لیے زمین کو مسخر کر کے تم پر انعام نہیں کیا؟ اور اس زمین کو ﴿ كِفَاتًا﴾ تمھارے لیے سمیٹنے والی نہیں بنایا ﴿ اَحْیَآءًؔ﴾ ’’زندوں کو‘‘ گھروں میں ﴿ وَّاَمْوَاتًا﴾ ’’اور مردوں‘‘ کو قبروں میں؟ پس جس طرح گھر اور محلات، بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا احسان ہے اسی طرح قبریں بھی ان کے حق میں رحمت اور ان کے لیے ستر ہیں کہ ان کے اجساد درندوں وغیرہ کے لیے کھلے نہیں پڑے رہتے۔ ﴿ وَّجَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ﴾ یعنی ہم نے ان کے اندر پہاڑ رکھ دیے جو زمین کو ٹھہرائے رکھتے ہیں تاکہ زمین اہل زمین کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے مضبوط اور بلند، یعنی طویل و عریض پہاڑوں کے ذریعے سے ٹھہرا دیا ﴿ وَّاَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءًؔ فُرَاتًا﴾ یعنی ہم نے تمھیں شیریں اور خوش ذائقہ پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَ٘شْ٘رَبُوْنَؕ۰۰ ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ۠ مِنَ الْ٘مُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ۰۰لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُوْنَ﴾ (الواقعۃ:56؍68۔69) ’’بھلا تم نے دیکھا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا تم اسے بادل سے برسایا یا ہم اسے برساتے ہیں؟ اور اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا دیں، پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔‘‘ ﴿ وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔ ‘‘بایں ہمہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں دکھلائیں، جن کو عطا کرنے میں وہ متفرد ہے اور ان نعمتوں سے ان کو مختص کیا، انھوں نے ان نعمتوں کے مقابلے میں تکذیب کا رویہ اختیار کیا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 27 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنباالنبأ

غلطی کی اطلاع دیں

مزید