المرسلات

مرسلات

50 آیاتمکیپارہ 29

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

سورت کا تعارف: تفسیر سعدی (اردو)

تفسیر سورۂ مرسلات

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 1

    وَٱلْمُرْسَلَـٰتِ عُرْفًا

    دل خوش کن چلتی ہواؤں کی قسم.[1]

    حواشی

    [1] اس مفہوم کے اعتبار سے عرفاً کے معنی پے درپے ہوں گے۔ بعض نے مرسلات سے فرشتے یا انبیا مراد لیے ہیں۔ اس صورت میں عرفاً کے معنی وحی الہی‘ یا احکام شریعت ہوں گے۔ یہ مفعول لہ ہوگا لأجل العرف یا منصوب بنزع الخافض- بالعُرفِ

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 1 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  2. 2

    فَٱلْعَـٰصِفَـٰتِ عَصْفًا

    پھر زور سے جھونکا دینے والیوں کی قسم.[1]

    حواشی

    [1] یا فرشتے مراد ہیں، جو بعض دفعہ ہواؤں کے عذاب کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  3. 3

    وَٱلنَّـٰشِرَٰتِ نَشْرًا

    پھر (ابر کو) ابھار کر پراگنده کرنے والیوں[1] کی قسم.[2]

    حواشی

    [1] یا فرشتے مراد ہیں، جو بعض دفعہ ہواؤں کے عذاب کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں۔ [2] یا ان فرشتوں کی قسم، جو بادلوں کو منتشر کرتے ہیں یا فضائے آسمانی میں اپنے پر پھیلاتے ہیں۔ تاہم امام ابن کثیر اور امام طبری نے ان تینوں ہوائیں مراد لینے کو راجح قرار دیا ہے، جیسے کہ ترجمے میں بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  4. 4

    فَٱلْفَـٰرِقَـٰتِ فَرْقًا

    پھر حق وباطل کو جدا جدا کر دینے والے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ان فرشتوں کی قسم جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے احکام لے کر اترتے ہیں۔ یا مراد آیات قرآنیہ ہیں، جن سے حق و باطل اور حلال و حرام کی تمیز ہوتی ہے یا رسول مراد ہیں جو وحی الٰہی کے ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 4 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  5. 5

    فَٱلْمُلْقِيَـٰتِ ذِكْرًا

    اور وحی ﻻنے والے فرشتوں کی قسم.[1]

    حواشی

    [1] جو اللہ کا کلام پیغمبروں تک پہنچاتے ہیں یا رسول مراد ہیں جو اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی، اپنی امتوں کو پہنچاتے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 5 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  6. 6

    عُذْرًا أَوْ نُذْرًا

    جو (وحی) الزام اتارنے یا آگاه کردینے کے لیے ہوتی ہے.[1]

    حواشی

    [1] دونوں مفعول لہ ہیں، لأجل العذار والإنذار یعنی فرشتے وحی لے کر آتے ہیں تاکہ لوگوں پر دلیل قائم ہو جائے اور یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمارے پاس تو کوئی اللہ کا پیغام ہی لے کر نہیں آیا یا مقصد ڈرانا ہے ان کو جو انکار یا کفر کرنے والے ہوں گے۔ یا معنی ہیں مومنوں کے لئے خوشخبری، اور کافروں کے لئے ڈراوا۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ مرسلات، عاصفات، اور ناشرات سے مراد ہوائیں اور فارقات، اور ملقیات سے فرشتے ہیں۔ یہی بات راجح ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 6 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  7. 7

    إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَٰقِعٌ

    جس چیز کا تم سے وعده کیا جاتا ہے وہ یقیناً ہونے والی ہے.[1]

    حواشی

    [1] قسموں سے مراد، مقسم علیہ کی اہمیت سامعین پر واضح کرنا اور اس کی صداقت کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ مقسم علیہ (یا جواب قسم) یہ ہے کہ تم سے قیامت کا جو وعدہ کیا جاتا ہے، وہ یقینا واضح ہونے والی ہے، یعنی اس میں شک کرنے کی نہیں بلکہ اس کے لئے تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ قیامت کب واقع ہوگی؟ اگلی سورت میں اس کو واضح کیا جا رہا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 7 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  8. 8

    فَإِذَا ٱلنُّجُومُ طُمِسَتْ

    پس جب ستارے بے نور کردئے جائیں گے.[1]

    حواشی

    [1] طَمْس کے معنی مٹ جانے اور بےنشان ہونے کے ہیں، یعنی جب ستاروں کی روشنی ختم بلکہ ان کا نشان تک مٹ جائے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 8 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  9. 9

    وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ فُرِجَتْ

    اور جب آسمان توڑ پھوڑ دیا جائے گا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 9 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  10. 10

    وَإِذَا ٱلْجِبَالُ نُسِفَتْ

    اور جب پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کر کے اڑا دیئے جائیں گے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا اور زمین بالکل صاف اور ہموار کر دی جائے گی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 10 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  11. 11

    وَإِذَا ٱلرُّسُلُ أُقِّتَتْ

    اور جب رسولوں کو وقت مقرره پر ﻻیا جائے گا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی فصل وقضا کے لیے ان کے بیانات سن کر ان کی قوموں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 11 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  12. 12

    لِأَىِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ

    کس دن کے لیے (ان سب کو) مؤخر کیا گیا ہے؟[1]

    حواشی

    [1] یہ استفہام تعظیم اور تعجب کے لئے ہےیعنی کیسے عظیم دن کے لئے، جس کی شدت اور ہولناکی، لوگوں کے لئے سخت تعجب انگیز ہوگی، ان پیغمبروں کے جمع ہونے کا وقت دیا گیا ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 12 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  13. 13

    لِيَوْمِ ٱلْفَصْلِ

    فیصلے کے دن کے لیے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جس دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا کوئی جنت میں اور کوئی دوزخ میں جائے گا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 13 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  14. 14

    وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ

    اور تجھے کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 14 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  15. 15

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ہلاکت ہے بعض کہتے ہیں "ویل"جہنم کی ایک وادی کا نام ہے، یہ آیت اس سورت میں بار بار دہرائی گئی ہے۔ اس لیے کہ ہر مکذب کا جرم ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کا ہوگا اور اسی حساب سے عذاب کی نوعیتیں بھی مختلف ہوں گی، بنابریں اسی ویل کی مختلف قسمیں ہیں جسے مختلف مکذبین کے لیے الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ (فتح القدیر)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 15 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  16. 16

    أَلَمْ نُهْلِكِ ٱلْأَوَّلِينَ

    کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 16 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  17. 17

    ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ ٱلْـَٔاخِرِينَ

    پھر ہم ان کے بعد پچھلوں کو ﻻئے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی کفار مکہ اور ان کے ہم مشرب، جنہوں نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی تکذیب کی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 17 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  18. 18

    كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِٱلْمُجْرِمِينَ

    ہم گنہگاروں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی سزا دیتے ہیں دنیا میں اور آخرت میں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 18 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  19. 19

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ویل (افسوس) ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 19 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  20. 20

    أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّآءٍ مَّهِينٍ

    کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے (منی سے) پیدا نہیں کیا.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 20 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  21. 21

    فَجَعَلْنَـٰهُ فِى قَرَارٍ مَّكِينٍ

    پھر ہم نے اسے مضبوط ومحفوظ جگہ میں رکھا.[1]

    حواشی

    [1] یعنی رحم مادر میں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 21 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  22. 22

    إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ

    ایک مقرره وقت تک.[1]

    حواشی

    [1] یعنی مدت حمل تک نو یا چھ مہینے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 22 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  23. 23

    فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ ٱلْقَـٰدِرُونَ

    پھر ہم نے اندازه کیا[1] اور ہم کیا خوب اندازه کرنے والے ہیں.

    حواشی

    [1] یعنی رحم مادر میں جسمانی ساخت و ترکیب و صحیح اندازہ کیا کہ دونوں آنکھوں، دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں اور دونوں کانوں کے درمیان اور دیگر اعضا کا ایک دوسرے کے درمیان کتنا فاصلہ رہنا چاہیئے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 23 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  24. 24

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    اس دن تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 24 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  25. 25

    أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ كِفَاتًا

    کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 25 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  26. 26

    أَحْيَآءً وَأَمْوَٰتًا

    زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی.[1]

    حواشی

    [1] یعنی زمین زندوں کو اپنی پشت پر اور مردوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 26 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  27. 27

    وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَٰسِىَ شَـٰمِخَـٰتٍ وَأَسْقَيْنَـٰكُم مَّآءً فُرَاتًا

    اور ہم نے اس میں بلند وبھاری پہاڑ بنادیے[1] اور تمہیں سیراب کرنے واﻻ میٹھا پانی پلایا.

    حواشی

    [1] رواسي راسية کی جمع۔ ثاوبت، جمے ہوئے پہاڑ، شامخات، بلند۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 27 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  28. 28

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    اس دن جھٹلانے والوں کے لیے وائے اور افسوس ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 28 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  29. 29

    ٱنطَلِقُوٓا۟ إِلَىٰ مَا كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ

    اس دوزخ کی طرف جاؤ جسے تم جھٹلاتے رہے تھے.[1]

    حواشی

    [1] یہ فرشتے جہنمیوں کو کہیں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 29 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  30. 30

    ٱنطَلِقُوٓا۟ إِلَىٰ ظِلٍّ ذِى ثَلَـٰثِ شُعَبٍ

    چلو تین شاخوں والے سائے کی طرف.[1]

    حواشی

    [1] جہنم سے جو دھواں آئے گا وہ بلند ہو کر تین طرفوں میں پھیل جائے گا، یعنی جس طرح دیوار یا درخت کا سایہ ہوتا ہے، یہ دھواں حقیقت میں اس طرح کا سایہ نہیں ہوگا جس میں جہنمی کچھ سکون حاصل کرلیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 30 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  31. 31

    لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِى مِنَ ٱللَّهَبِ

    جو در اصل نہ سایہ دینے واﻻ ہے اور نہ شعلے سے بچاسکتا ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جہنم کی حرارت سے بچنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 31 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  32. 32

    إِنَّهَا تَرْمِى بِشَرَرٍ كَٱلْقَصْرِ

    یقیناً دوزخ چنگاریاں پھینکتی ہے جو مثل محل کے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] اس کا ایک ترجمہ ہے جو لکڑی کے بوٹے یعنی بھاری ٹکڑے کے مثل ہیں۔ (بوٹے بمعنی شہتیر کے ٹکڑے، جسے گیلی بھی کہتے ہیں)۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 32 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  33. 33

    كَأَنَّهُۥ جِمَـٰلَتٌ صُفْرٌ

    گویا کہ وه زرد اونٹ ہیں.[1]

    حواشی

    [1] صفر، أصفر (زرد) کی جمع ہے، لیکن عرب میں اس کا استعمال اسود کے معنی میں بھی ہے۔ اس معنی کی بناء پر مطلب یہ ہے کہ اس کی ایک ایک چنگاڑی اتنی اتنی بڑی ہوگی جیسے محل یا قلعہ۔ پھر ہر چنگاڑی کے مذید اتنے بڑے بڑے ٹکڑے ہو جائیں گے جیسے اونٹ ہوتے ہیں۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 33 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  34. 34

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    آج ان جھٹلانے والوں کی درگت ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 34 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  35. 35

    هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ

    آج (کا دن) وه دن ہے کہ یہ بول بھی نہ سکیں گے.[1]

    حواشی

    [1] محشر میں کافروں کی مختلف حالتیں ہوں گی۔ ایک وقت وہ ہوگا کہ وہ وہاں بھی جھوٹ بولیں گے پھر اللہ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے پھر جس وقت ان کو جہنم میں لے جایا جارہا ہوگا اس وقت عالم اضطراب وپریشانی میں ان کی زبانیں بھی گنگ ہو جائیں گی۔ بعض کہتے ہیں کہ بولیں گے تو سہی لیکن ان کے پاس حجت کوئی نہیں ہوگی۔ گویا ان کو بات کرنی ہی نہیں آئے گی۔ جیسے ہم دنیا میں ایسے شخص کی بابت کہتے ہیں جس کے پاس کوئی تسلی بخش دلیل نہیں ہوتی، وہ تو ہمارے سامنے بول ہی نہیں سکا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 35 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  36. 36

    وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ

    نہ انہیں معذرت کی اجازت دی جائے گی.[1]

    حواشی

    [1] مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس پیش کرنے کے لیے معقول عذر ہی نہیں ہوگا جسے وہ پیش کرسکیں گے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 36 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  37. 37

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 37 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  38. 38

    هَـٰذَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ ۖ جَمَعْنَـٰكُمْ وَٱلْأَوَّلِينَ

    یہ ہے فیصلے کا دن ہم نے تمہیں اور اگلوں کو سب کو جمع کرلیا ہے.[1]

    حواشی

    [1] یہ اللہ کے بندوں سے خطاب فرمائے گا کہ ہم نے تمہیں اپنی قدرت کاملہ سے فیصلہ کرنے کے لئے ایک ہی میدان میں جمع کر لیا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 38 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  39. 39

    فَإِن كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ

    پس اگر تم مجھ سے کوئی چال چل سکتے ہو تو چل لو.[1]

    حواشی

    [1] یہ سخت وعید اور تہدید ہے کہ اگر تم میری گرفت سے بچ سکتے ہو اور میرے حکم سے نکل سکتے ہو تو بچ اور نکل کے دکھاؤ۔ لیکن وہاں کس میں یہ طاقت ہوگی؟ یہ آیت بھی ایسے ہی ہے، جیسے یہ آیت ہے «يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ...» (الرحمٰن: 33)

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 39 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  40. 40

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    وائے ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 40 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  41. 41

    إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى ظِلَـٰلٍ وَعُيُونٍ

    بیشک پرہیزگار لوگ سایوں میں ہیں[1] اور بہتے چشموں میں.

    حواشی

    [1] یعنی درختوں اور محلات کے سائے، آگ کے دھوئیں کا سایہ نہیں ہوگا جیسے مشرکین کے لئے ہوگا۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 41 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  42. 42

    وَفَوَٰكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ

    اور ان میووں میں جن کی وه خواہش کریں.[1]

    حواشی

    [1] ہر قسم کے پھل، جب بھی خواہش کریں گے، آ موجود ہونگے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 42 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  43. 43

    كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ هَنِيٓـًٔۢا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

    (اے جنتیو!) کھاؤ پیو مزے سےاپنے کیے ہوئے اعمال کے بدلے.[1]

    حواشی

    [1] یہ بطور احسان انہیں کہا جائے گا۔ بما کنتم میں با سبب کے لئے ہے یعنی جنت کی یہ نعمتیں ان اعمال صالحہ کی وجہ سے تمہیں ملی ہیں جو تم دنیا میں کرتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ جس کی وجہ سے انسان جنت میں داخل ہوگا اعمال صالحہ ہیں۔ جو لوگ عمل صالح کے بغیر اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں ان کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی زمین میں ہل چلائے اور بیج بوئے بغیر فصل کا امیدوار ہو یا تخم حنظل بوکر خوش ذائقہ پھلوں کی امید رکھے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 43 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  44. 44

    إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

    یقیناً ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] اس میں بھی اس امر کی ترغیب و تلقین ہے کہ اگر آخرت میں حسن انجام کے طالب ہو تو دنیا میں نیکی اور بھلائی کا راستہ اپناؤ۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 44 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  45. 45

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    اس دن سچا نہ جاننے والوں کے لیے ویل (افسوس) ہے.[1]

    حواشی

    [1] کہ اہل تقویٰ کے حصے میں جنت کی نعمتیں آئیں اور ان کے حصے میں بڑی بد بختی۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 45 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  46. 46

    كُلُوا۟ وَتَمَتَّعُوا۟ قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِمُونَ

    (اے جھٹلانے والو) تم دنیا میں تھوڑا سا کھا لو اور فائده اٹھا لو بیشک تم گنہگار ہو.[1]

    حواشی

    [1] یہ مکذبین قیامت کو خطاب ہے اور یہ امر، تہدید و وعید کے لئے ہے، یعنی اچھا چند روز خوب عیش کر لو، تم جیسے مجرمین کے لئے شکنجہ عذاب تیار ہے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 46 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  47. 47

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    اس دن جھٹلانے والوں کے لیے سخت ہلاکت ہے.

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 47 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  48. 48

    وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱرْكَعُوا۟ لَا يَرْكَعُونَ

    ان سے جب کہا جاتا ہے کہ رکوع کر لو تو نہیں کرتے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی جب ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے، تو نماز نہیں پڑھتے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 48 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  49. 49

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے.[1]

    حواشی

    [1] یعنی ان کے لیے جو اللہ کے اوامر ونواہی کو نہیں مانتے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 49 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ
  50. 50

    فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ

    اب اس قرآن کے بعد کس بات پر ایمان ﻻئیں گے؟[1]

    حواشی

    [1] یعنی جب قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس کے بعد اور کون سا کلام ہے جس پر ایمان لائیں گے؟ یہاں بھی حدیث کا اطلاق قرآن پر ہوا ہے، جیسا کہ اور بھی بعض مقامات پر کیا گیا ہے۔ ایک ضعیف روایت میں ہے کہ جو سورۂ تین کی آخری آیت أَلَيْسَ الله... الآية پڑھے تو وہ جواب میں کہے بَلَى ٰ وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ، اور سورۂ قیامت کے آخر کے جواب میں بَلَى اور فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ کے جواب میں آمَنَّا بِالله، کہے۔ (أبوداؤد، باب مقدار الرکوع والسجود، وضعیف أبی داود، ألبانی) بعض علماء کے نزدیک سامع کو بھی جواب دینا چاہیے۔

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 50 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنباالنبأ

قرآن کا متن: تنزیل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید