الأنفال

انفال

75 آیاتمدنیپارہ 9

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 11

    إِذْ يُغَشِّيكُمُ ٱلنُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً لِّيُطَهِّرَكُم بِهِۦ وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِجْزَ ٱلشَّيْطَـٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ ٱلْأَقْدَامَ

    اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لیے[1] اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا کہ اس پانی کے ذریعہ سے تم کو پاک کر دے اور تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کر دے[2] اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور تمہارے پاؤں جما دے۔[3]

    حواشی

    [1] جنگ احد کی طرح جنگ بدر میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اونگھ طاری کر دی، جس سے ان کے دلوں کے بوجھ ہلکے ہوگئے اور اطمینان وسکون کی ایک خاص کیفیت ان پر طاری ہوگئی ۔ [2] تیسرا انعام یہ کیا کہ بارش نازل فرما دی، جس سے ایک تو رتیلی زمین میں نقل وحرکت آسان ہوگئی ۔ دوسرے وضو وطہارت میں آسانی ہوگئی ۔ تیسرے اس سے شیطانی وسوسوں کا ازالہ فرما دیا گیا جو وہ اہل ایمان کے دلوں میں ڈال رہا تھا کہ تم اللہ کے نیک بندے ہوتے ہوئے بھی پانی سے دور ہو، دوسرے جنابت کی حالت میں تم لڑو گے تو کیسے اللہ کی رحمت ونصرت تمہیں حاصل ہوگی؟ تیسرے تم پیاسے ہو، جب کہ تمہارے دشمن سیراب ہیں۔ وغیرہ وغیرہ ۔ [3] یہ چوتھا انعام ہے جو دلوں اور قدموں کو مضبوط کرکے کیا گیا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 11 کی تفسیر

    [11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ یُغَشِّیْكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِیَ٘رْبِطَ عَلٰى قُ٘لُوْبِكُمْ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَیُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 11 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتوبہالتوبة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید