الأنفال

انفال

75 آیاتمدنیپارہ 9

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 2

    إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُهُۥ زَادَتْهُمْ إِيمَـٰنًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

    بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔[1]

    حواشی

    [1] ان آیات میں اہل ایمان کی 4 صفات بیان کی گئی ہیں; 1۔ وہ اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی اطاعت کرتے ہیں نہ کہ صرف اللہ کی یعنی قرآن کی۔ 2۔ اللہ کا ذکر سن کر، اللہ کی جلالت وعظمت سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ 3۔ تلاوت قرآن سے ان کے ایمانوں میں اضافہ ہوتا ہے (جس سے معلوم ہوا کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے، جیسا کہ محدثین کا مسلک ہے) 4۔ اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ توکل کا مطلب ہے کہ ظاہری اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یعنی اسباب سے اعراض وگریز بھی نہیں کرتے کیونکہ انہیں اختیار کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہی دیا ہے، لیکن اسباب ظاہری کو ہی سب کچھ نہیں سمجھ لیتے بلکہ ان کا یہ یقین ہوتا ہے کہ اصل کارفرما مشیت الٰہی ہی ہے، اس لیے جب تک اللہ کی مشیت بھی نہیں ہوگی، یہ ظاہری اسباب کچھ نہیں کرسکیں گے اور اس یقین واعتماد کی بنیاد پر پھر وہ اللہ کی مدد واعانت حاصل کرنے سے ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں ہوتے۔ آگے ان کی مزید صفات کا تذکرہ ہے اور ان صفات کے حاملین کے لیے اللہ کی طرف سے سچے مومن ہونے کا سرٹیفکیٹ اور مغفرت ورحمت الٰہی اور رزق کریم کی نوید ہے ۔ جَعَلَنَا اللهُ مِنْهُمْ (اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان میں شمار فرما لے)۔ جنگ بدر کا پس منظر: جنگ بدر، جو ٢ ہجری میں ہوئی، کافروں کے ساتھ مسلمانوں کی پہلی جنگ تھی۔ علاوہ ازیں یہ منصوبہ بندی اور تیاری کے بغیر اچانک ہوئی۔ نیز بے سروسامانی کی وجہ سے بعض مسلمان ذہنی طور پر اس کے لیے تیار بھی نہیں تھے۔ مختصراً اس کا پس منظر اس طرح ہے کہ ابوسفیان کی (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) سرکردگی میں ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ جارہا تھا، چونکہ مسلمانوں کا بھی بہت سا مال واسباب ہجرت کی وجہ سے مکہ رہ گیا تھا، یا کافروں نے چھین لیا تھا، نیز کافروں کی قوت وشوکت کو توڑنا بھی مقتضائے وقت تھا، ان تمام باتوں کے پیش نظر رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے اس تجارتی قافلے پر حملے کرنے کا پروگرام بنایا اور مسلمان اس نیت سے مدینہ سے چل پڑے۔ ابوسفیان کو بھی اس امر کی اطلاع مل گئی۔ چنانچہ انہوں نے ایک تو اپنا راستہ تبدیل کرلیا۔ دوسرے، مکہ اطلاع بھجوادی جس کی بنا پر ابوجہل ایک لشکر لے کر اپنے قافلے کی حفاظت کے لیے بدر کی جانب چل پڑا، نبی (صلى الله عليه وسلم) کو اس صورت حال کا علم ہوا تو صحابہ کرام کے سامنے معاملہ رکھ دیا اور اللہ کا وعدہ بھی بتلایا کہ ان دونوں (تجارتی قافلہ اور لشکر) میں سے ایک چیز تمہیں ضرور حاصل ہوگی۔ تاہم پھر بھی لڑائی میں بعض صحابہ نے تردد کا اظہار اور تجارتی قافلے کے تعاقب کا مشورہ دیا، جب کہ دوسرے تمام صحابہ نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے ساتھ لڑنے میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ اسی پس منظر میں یہ آیات نازل ہوئیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 2 کی تفسیر

    [2] چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (۲) ناقص ایمان۔ تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ ﴾ ’’مومن تو صرف وہ ہیں ‘‘ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُ٘لُوْبُهُمْ ﴾ ’’کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ ﴿ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا ﴾ ’’اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ تدبر، اعمال قلوب میں شمار ہوتا ہے نیز ان کے لیے معانی کی بھی توضیح ہوتی ہے جن سے وہ لاعلم ہیں اور ان کو ان امور کی یاددہانی ہوتی ہے جن کو وہ فراموش کر چکے ہیں یا ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور اپنے رب کے اکرام و تکریم کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے یا ان کے دل میں عذاب سے خوف اور معاصی سے ڈر پیدا ہوتا ہے اور ان تمام امور سے ایمان بڑھتا ہے۔ ﴿ وَّعَلٰى رَبِّهِمْ ﴾ ’’اور اپنے رب پر‘‘ یعنی اپنے رب وحدہ لا شریک پر ﴿ یَتَوَؔكَّلُ٘وْنَ ﴾ ’’وہ بھروسہ کرتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی مضرتوں کو دور کرنے میں اپنے دلوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور انھیں پورا وثوق ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ضرور کرے گا۔ توکل ہی انسانوں کو تمام اعمال پر آمادہ کرتا ہے توکل کے بغیر اعمال وجود میں آتے ہیں نہ تکمیل پا سکتے ہیں ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتوبہالتوبة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید