الأنفال

انفال

75 آیاتمدنیپارہ 9

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 41

    ۞ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَىْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ ٱلْفُرْقَانِ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

    جان لو کہ تم جس قسم کی جو کچھ غنیمت حاصل کرو[1] اس میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت داروں کا اور یتیموں اور مسکینوں کا اور مسافروں کا[2]، اگر تم اللہ پر ایمان ﻻئے ہو اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے پر اس دن اتارا ہے[3]، جو دن حق وباطل کی جدائی کا تھا[4] جس دن دو فوجیں بھڑ گئی تھیں[5]۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

    حواشی

    [1] غنیمت سے مراد وہ مال ہے جو کافروں سے، کافروں پر لڑائی میں فتح وغلبہ حاصل ہونے کے بعد، حاصل ہو ۔ پہلی امتوں میں اس کے لئے یہ طریقہ تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد کافروں سے حاصل کردہ سارا مال ایک جگہ ڈھیر کر دیا جاتا، آسمان سے آگ آتی اور اسے جلا کر بھسم کرڈالتی ۔ لیکن امت مسلمہ کے لئے یہ مال غنیمت حلال کر دیا گیا اور جو مال بغیر لڑائی کے صلح کے ذریعے یا جزیہ وخراج سے وصول ہو، اسے فَيْءٌ کہا جاتا ہے ۔ کبھی غنیمت کو فَيْءٌ سے تعبیر کر لیا جاتا ہے۔ ”مِنْ شَيْءٍ“ سے مراد جو کچھ بھی ہو یعنی تھوڑا ہو یا زیادہ، قیمتی ہو یا معمولی، سب کو جمع کرکے اس کی تقسیم حسب ضابطہ کی جائے گی۔ کسی سپاہی کو اس میں سے کوئی چیز تقسیم سے قبل اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں ہے ۔ [2] اللہ کا لفظ تو بطور تبرک، نیز اس لئے بھی ہے کہ ہر چیز کا اصل مالک وہی ہے اور حکم بھی اسی کا چلتا ہے۔ مراد اللہ اور اس کے رسول کے حصہ سے ایک ہی ہے، یعنی سارے مال غنیمت کے پانچ حصے کرکے چار حصے تو ان مجاہدین میں تقسیم کیے جائیں گے جنہوں نے جنگ میں حصہ لیا۔ ان میں بھی پیادہ کو ایک حصہ اور سوار کو تین گنا حصہ ملے گا۔ پانچواں حصہ، جسے عربی میں خمس کہتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ اس کے پھر پانچ حصے کئے جائیں گے۔ ایک حصہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کا ( اور آپ صلى الله عليه وسلم کے بعد اسے مفاد عامہ میں خرچ کیا جائے گا) جیسا کہ خود آپ (صلى الله عليه وسلم) بھی یہ حصہ مسلمانوں پر ہی خرچ فرماتے تھے بلکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا بھی ہے۔ ”وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ“ (سنن النسائي- وصححه الألباني في صحيح النسائي: 3858 ۔ ومسند أحمد جلد: 5، ص،319) یعنی میرا جو پانچواں حصہ ہے وہ بھی مسلمانوں کے مصالح پر ہی خرچ ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے قرابت داروں کا، پھر یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ خمس حسب ضرورت خرچ کیا جائے گا۔ [3] اس نزول سے مراد فرشتوں کا اور آیات الٰہی ( معجزات وغیرہ ) کا نزول ہے جو بدر میں ہوا۔ [4] بدر کی جنگ 2 ہجری 17رمضان المبارک کو ہوئی۔ اس دن کو یوم الفرقان اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ کافروں اور مسلمانوں کے درمیان پہلی جنگ تھی اور مسلمانوں کو فتح وغلبہ دے کر واضح کر دیا گیا کہ اسلام حق ہے اور کفر وشرک باطل ہے۔ [5] یعنی مسلمانوں اور کافروں کی فوجیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 41 کی تفسیر

    [41] ﴿وَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ﴾’’اور جان رکھو کہ تم مال غنیمت سے جو کچھ حاصل کرو۔‘‘ یعنی کفار کا جو مال تم فتح یاب ہو کر حق کے ساتھ حاصل کرو، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ﴿ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ﴾ ’’تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے۔‘‘اور باقی تمھارے لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غنیمت کی اضافت ان کی طرف کی ہے اور اس میں سے پانچواں حصہ نکال دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پانچواں حصہ نکال کر باقی ان میں اسی طرح تقسیم کیا جائے گا جس طرح رسول اللہe نے تقسیم فرمایا تھا...، یعنی پیادے کے لیے ایک حصہ اور سوار کے لیے دو حصے، ایک حصہ خود اس کے لیے اور ایک حصہ اس کے گھوڑے کے لیے(لیکن حدیث سے سوار کے لیے تین حصے ثابت ہوتے ہیں‘ دو حصے اس کے گھوڑے کے لیے اور ایک حصہ خود اس کے لیے۔ ) ’اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَھْمَیْنِ وَلِصَاحِبِہٖ سَھْمًا‘(صحیح البخاري، الجہاد والسیر، باب سھام الفرس، حدیث: 2863، 4228) (ص۔ی) رہا خمس تو اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے، ان میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسولe کے لیے مختص ہے جو کسی تعین کے بغیر عام مسلمانوں کے مصالح پر خرچ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اللہ اور رسولe کا حصہ قرار دیا ہے اور اللہ اور اس کا رسولe اس سے بےنیاز ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حصہ درحقیقت بندگان الٰہی کے لیے ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مصارف متعین نہیں فرمائے اس لیے واضح ہوا کہ اس کو مصالح عامہ میں صرف کیا جائے گا۔ خمس کا دوسرا حصہ، ذو القربیٰ کے لیے ہے اور یہاں ذو القربیٰ سے مراد رسول اللہe کے قرابت دار یعنی بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں ۔ ذو القربیٰ کی طرف اس کی اضافت اس امر کی دلیل ہے کہ اس حکم کی علت مجرد قرابت ہے جس میں ان کے مال دار اور محتاج، مرد اور عورتیں سب شامل ہیں ۔ خمس کا تیسرا حصہ، یتیموں کے لیے ہے جن کے باپ فوت ہو چکے ہیں اور خود وہ بہت کمسن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کی بنا پر ان کے لیے خمس کا پانچواں حصہ مقرر فرمایا ہے کیونکہ وہ خود اپنے مصالح کی دیکھ بھال کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کسی ایسی ہستی سے بھی محروم ہیں جو ان کے مصالح کا انتظام کرے۔ خمس کا چوتھا حصہ مساکین، یعنی چھوٹوں ، بڑوں ، مردوں اور عورتوں میں سے محتاج اور تنگ دستوں کے لیے ہے۔ خمس کا آخری حصہ مسافروں کی بہبود کے لیے ہے۔ (اِبْنُ السَّبِیل) سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گیا ہو۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ ان مذکورہ مصارف سے باہر خرچ نہ کیا جائے، البتہ یہ لازم نہیں کہ ان اصناف مذکورہ میں برابر برابر تقسیم کیا جائے بلکہ مصالح کے مطابق ان کے درمیان اس مال کو تقسیم کیا جائے گا .... یہی رائے زیادہ قرین صواب ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خمس کو اس طریقے سے خرچ کرنا ایمان کی شرط قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْ٘فُرْقَانِ ﴾ ’’اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے نازل کی اپنے بندے پر فیصلے کے دن‘‘ (یوم الفرقان) سے مراد یوم بدر ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق اور باطل میں فیصلہ کیا۔ حق کو غالب کیا اور باطل کا بطلان ظاہر کیا۔ ﴿یَوْمَ الْ٘تَ٘قَى الْ٘جَمْعٰنِ﴾ ’’جس دن بھڑ گئیں دونوں فوجیں‘‘ یعنی مسلمانوں کے گروہ اور کفار کے گروہ کی مڈبھیڑ ہوئی... یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور اس حق پر ایمان رکھتے ہو جو اس نے اپنے رسولe پر بدر کے روز نازل فرمایا، جس سے ایسے دلائل اور براہین حاصل ہوئے جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ رسول اللہe جو کچھ لائے ہیں ، وہ حق ہے ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴾’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ کا مقابلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی غالب آتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 41 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتوبہالتوبة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید