الأنفال

انفال

75 آیاتمدنیپارہ 9

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 42

    إِذْ أَنتُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلدُّنْيَا وَهُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلْقُصْوَىٰ وَٱلرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنكُمْ ۚ وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَٱخْتَلَفْتُمْ فِى ٱلْمِيعَـٰدِ ۙ وَلَـٰكِن لِّيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَىَّ عَنۢ بَيِّنَةٍ ۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ

    جب کہ تم پاس والے کنارے پر تھے اور وه دور والے کنارے پر تھے[1] اور قافلہ تم سے نیچے تھا[2]۔ اگر تم آپس میں وعدے کرتے تو یقیناً تم وقت معین پر پہنچنے میں مختلف ہو جاتے[3]۔ لیکن اللہ کو تو ایک کام کر ہی ڈالنا تھا جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل پر (یعنی یقین جان کر) ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر (حق پہچان کر) زنده رہے[4]۔ بیشک اللہ بہت سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے۔

    حواشی

    [1] دنیا، دُنُوٌّ سے ہے بمعنی قریب- مراد ہے وہ کنارہ جو مدینہ شہر کے قریب تھا۔ قصویٰ کہتے ہیں دور کو۔ کافر اس کنارے پر تھے جو مدینہ سے نسبتاً دور تھا ۔ [2] اس سے مراد وہ تجارتی قافلہ ہے جو حضرت ابو سفیان (رضي الله عنه) کی قیادت میں شام سے مکہ جا رہا تھا اور جسے حاصل کرنے کے لئے ہی دراصل مسلمان اس طرف آئے تھے۔ یہ پہاڑ سے بہت دور مغرب کی طرف نشیب میں تھا، جب کہ بدر کا مقام جہاں جنگ ہوئی، بلندی پر تھا۔ [3] یعنی اگر جنگ کے لئے باقاعدہ دن اور تاریخ کا ایک دوسرے کے ساتھ وعدہ یا اعلان ہوتا تو ممکن بلکہ یقین تھا کہ کوئی فریق لڑائی کے بغیر ہی پسپائی اختیار کر لیتا لیکن چونکہ اس جنگ کا ہونا اللہ نے لکھ رکھا تھا، اس لئے ایسے اسباب پیدا کر دیئے گئے کہ دونوں فریق بدر کے مقام پر ایک دوسرے کے مقابل بغیر پیشگی وعدہ وعید کے، صف آرا ہو جائیں۔ [4] یہ علت ہے اللہ کی اس تقدیری مشیت کی جس کے تحت بدر میں فریقین کا اجتماع ہوا، تاکہ جو ایمان پر زندہ رہے تو وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے اور اسے یقین ہو کہ اسلام حق ہے کیونکہ اس کی حقانیت کا مشاہدہ وہ بدر میں کر چکا ہے اور جو کفر کے ساتھ ہلاک ہو تو وہ بھی دلیل کے ساتھ ہلاک ہو کیونکہ اس پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ مشرکین کا راستہ گمراہی اور باطل کا راستہ ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 42 کی تفسیر

    [42] ﴿اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا﴾ ’’جس وقت تم قریب کے ناکے پر تھے۔‘‘ یعنی جب تم مدینہ سے قریب ترین وادی میں تھے۔ ﴿ وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى﴾ ’’اور وہ (کفار) مدینہ سے بعید ترین وادی میں تھے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے تم دونوں گروہوں کو ایک ہی وادی میں جمع کر دیا ﴿ وَالرَّؔكْبُ ﴾ ’’اور قافلہ‘‘ یعنی وہ تجارتی قافلہ جس کے تعاقب میں تم نکلے تھے مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ کچھ اور ہی تھا ﴿ اَسْفَلَ مِنْكُمْ ﴾ ’’تم سے نیچے کی طرف تھا‘‘ یعنی وہ ساحل کے ساتھ ساتھ تھا۔ ﴿ وَلَوْ تَوَاعَدْتُّمْ ﴾ ’’اور اگر تم آپس میں قرار داد کرلیتے۔‘‘ اگر تم نے اور کفار نے اس حال میں اور اس وصف کے ساتھ ایک دوسرے سے وعدہ کیا ہوتا ﴿ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ﴾ ’’تو نہ پہنچتے وعدے پر ایک ساتھ‘‘ یعنی مقررہ میعاد میں تقدیم و تاخیر یا جگہ کے انتخاب وغیرہ میں کسی عارضہ کی بنا پر تم میں اختلاف واقع ہو جاتا جو تمھیں میعاد مقررہ پر پہنچنے سے روک دیتا۔ ﴿ وَلٰكِنْ ﴾ ’’اور لیکن‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس حال میں اکٹھا کر دیا۔ ﴿ لِّ٘یَقْ٘ضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ﴾ ’’تاکہ اللہ اس امر کو پورا کرے (جو روز ازل سے مقرر ہے) جس کا واقع ہونا لابدی ہے۔‘‘﴿ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ ﴾ ’’تاکہ مرے جس کو مرنا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد‘‘ تاکہ معاند حق کے خلاف حجت اور دلیل قائم ہو جائے تاکہ اگر وہ کفر اختیار کرے تو پوری بصیرت کے ساتھ اختیار کرے اور اس کے بطلان کا اسے پورا یقین ہو اور یوں اللہ کے حضور پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی عذر نہ ہو۔ ﴿ وَّیَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ ﴾ ’’اور زندہ رہے جس کو جینا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد‘‘ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں پر جو حق کے دلائل واضح کیے ہیں اس کی بنا پر اہل ایمان کے یقین اور بصیرت میں اضافہ ہو۔ یہ دلائل و براہین عقل مندوں کے لیے یاددہانی ہے۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَ٘سَمِیْعٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سننے والا ہے‘‘ تمام آوازوں کو، زبانوں کے اختلاف اور مخلوق کی مختلف حاجات کے باوجود۔ ﴿ عَلِیْمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ظاہری اعمال، ضمیر میں چھپی ہوئی نیتوں اور بھیدوں ، غائب اور حاضر ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 42 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتتوبہالتوبة

غلطی کی اطلاع دیں

مزید